خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 49

خطبات محمود 49 $1940 موسم کا حال بیان کرنے میں تو ایک انگریز بے شک غلط بیانی کرے گا مگر گواہی کے معاملہ میں نسبتا سچ بولے گا اور عدالت کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی۔ہمارے ملک میں یہ بات نہیں۔یہاں عدالتوں میں بھی بہت دعا اور فریب ہوتا ہے۔سچا بھی عدالت میں جا کر جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹا بھی، پولیس بھی جھوٹ بولتی ہے اور گواہ بھی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مجسٹریٹوں کو بھی بعض اوقات جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ہر طرف جھوٹ کا ایک طوفان بپا ہوتا ہے۔سچائی کو سچ ثابت کرنے کے لئے بھی ضرور جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔کوئی شخص کسی سرکاری عدالت میں سچ کے ساتھ مقدمہ نہیں جیت سکتا خواہ اس کا کیس بالکل ہی سچا کیوں نہ ہو۔اس کی وجہ یہ ہے جھوٹ کی بنیاد ایسے اصول سے قائم کی گئی ہے کہ جھوٹ مجبوراً بولنا پڑتا ہے۔اگر کسی نص کے خلاف دس بارہ جھوٹے گواہ پیش ہو جائیں جو کہیں اس نے فلاں شخص کو مارا ہے تو گو اس نے نہ مارا ہو جب تک وہ بھی ایسے گواہ پیش نہ کرے جو کہیں اس نے نہیں مارا وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔اور ضروری نہیں کہ بچے کے پاس گواہ موجو د ہوں اس لئے اسے ضرور جھوٹے گواہ بنانے پڑتے ہیں۔اگر تو مارنے والا خود ہی سچا بیان دے دے کہ اس نے گالی دی اور میں نے مارا تو عدالت کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔اسے صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ اشتعال کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ کافی ہے یا نہیں؟ اگر تو وہ سمجھے کہ اشتعال ایسا تھا کہ اس کے مقابلہ میں اتنامار نازیادہ نہیں تو وہ سزا میں کمی کر سکتا ہے اور اگر اس کے نزدیک اشتعال کافی نہ ہو تو سز اسخت دے سکتا ہے۔اور یورپ میں عام طریق یہی ہے مگر یہاں یہ حال ہے کہ اگر دو آدمی اکیلے لڑ پڑیں تو فوراً ایک کے دس بارہ دوست جھوٹی گواہی دینے پر تیار ہو جائیں گے کہ ہم وہاں موجود تھے اور فلاں شخص نے ہمارے سامنے فلاں کو مارا تھا۔اب اگر سچ بولنے والا اکیلا ہی ان کے مقابلہ میں کہتا جائے کہ میں نے نہیں مارا تو مجسٹریٹ اس کی ہر گز نہیں سنے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کے سچ کی تائید کے لئے بھی اتنے ہی گواہ ہوں۔یہاں فیصلہ اس کے حق میں ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ جھوٹی شہادت مہیا کر سکے۔اگر تو جس نے مارا ہے وہ زیادہ معززین کو جھوٹا بنا سکے تو وہ کامیاب ہو جائے گا اور اگر نہ مارنے والا زیادہ معززین کو جھوٹا بنا سکے گا تو وہ جیت جائے گا۔جیت کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ کون شخص زیادہ تعداد میں اور