خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 47

1940 47 خطبات محمود موسم کیسا ہے؟ حالانکہ سارے اسی جگہ رہتے ہیں مگر پھر بھی ملیں گے تو موسم کا حال ضرور پوچھیں گے۔اسی رواج کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک ہندوستان میں بھی یہ حالت تھی کہ جب علاقہ کے زمیندار کبھی ڈپٹی کمشنر سے ملتے تو وہ ہر ایک سے موسم کا حال ضرور دریافت کرتا اور پوچھتا بارش ہوئی ہے یا نہیں ؟ موسم کیسا ہے ؟ اور اس طرح ملاقات کا قریباً آدھا وقت اسی میں گزار دیتا۔ملنے والا حیران ہو تا کہ دو منٹ کی تو ملاقات تھی جس میں سے ایک منٹ موسم کا حال دریافت کرنے میں گزار دیا۔ادھر افسر یہ سمجھتا کہ اگر میں یہ دریافت نہ کروں تو بد تہذیب سمجھا جاؤں گا۔وہ چاہتا کہ میں اپنا دُکھڑ ا سناؤں۔اور یہ بارش اور موسم کے متعلق دریافت کرنے میں ہی وقت گزار دیتا۔ڈپٹی کمشنر تو اپنی طرف سے اس کی خاطر داری کرتا اور زمیندار کے دل میں اس طرح وقت کے ضائع ہونے پر شکوہ پید اہو رہا ہو تا۔یہ انگلستان کے رواج کے مطابق بات تھی۔وہاں ملتے وقت موسم کا حال ضرور دریافت کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں موسم بڑی جلدی جلدی بدلتارہتا ہے۔جس طرح سندھیوں اور بلوچیوں میں یہ طریق ہے کہ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایک کہتا ہے حال دے اور وہ سنانا شروع کرتا ہے کہ فلاں کا یہ حال ہے فلاں کا یہ حال ہے اور اس طرح سب تفاصیل بیان کرنے کے بعد اسے کہتا ہے کہ تُو حال دے اور پھر وہ اپنی کہانی سناتا ہے اور جب سب کچھ اگل دیتا ہے تو دوسرے سے کہتا ہے حال دے اور اس طرح اس کا پیٹ خالی کراتا ہے۔اسی طرح ایک دوسرے سے پوچھتے جاتے ہیں ختم نہیں کرتے اور یہ عادت اس قدر عام ہے کہ مجھے ایک پولیس کے افسر نے بتایا کہ یہاں یہ حال ہے کہ ادھر چور کو پکڑنے کے لئے نکلو اور اُدھر اسے خبر پہنچ جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اگر ایک بھی سندھی کو پتہ لگ جائے تو دوسرے سے ملنے پر جب وہ حال دریافت کرتا ہے تو سب باتیں بیان کرنے کے ساتھ یہ بھی کہہ دے گا کہ فلاں تھانیدار فلاں چور کو پکڑنے جارہا ہے اور راستہ میں اسے جو جو ملے گا اور حال دریافت کرے گاوہ ہر ایک کو یہ بات بھی بتائے گا اور پھر ان میں سے جسے بھی دوسرے کو حال بتانے کا موقع آئے وہ یہ بات بھی اسے ضرور سنائے گا۔نتیجہ یہ ہو گا کہ تھانیدار تو بعد میں پہنچے گا مگر یہ خبر پہلے ہی سارے ضلع میں پہنچ جائے گی اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں چور بھلا کیوں بیٹھا رہے گا؟ اس پولیس افسر نے بتایا کہ