خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 25

1940ء 25 خطبات محمود شان سے بعید ہیں لیکن محبت کی گفتگو میں اور محبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔ پس میں کہتا ہوں اگر خدا کے لئے بھی رونا ممکن ہو تا، اگر خدا کے لئے بھی ہنسنا ممکن ہوتا تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کر تا ہوں اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے یہ سوچاتک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہو گا کیونکر؟ اگر اس وقت خدا کے لئے رونا ممکن ہوتا تو میں یقینا جانتا ہوں کہ خدارو پڑتا اور اگر خدا کے لئے ہنسنا ممکن ہو تا تو وہ یقینا ہنس پڑتا۔ وہ ہنستا بظاہر اس بے وقوفی کے دعوے پر جو تمام دنیا کے مقابلہ میں ایک نحیف و ناتواں وجو د نے کیا اور وہ روپڑتا اس جذبۂ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خدا کے لئے ظاہر کیا۔ یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظور ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں کام آیا کرتی ہے۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہی یہ واقعہ سناہوا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ تم جلدی لوگوں کو دوست بنا لیتے ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ سچے دوست کا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے اور وہ کہتا کہ آپ کو غلطی لگی ہوئی ہے میرے دوست سب سچے ہیں اور خواہ مجھ پر کیسی ہی مصیبت کا وقت آئے یہ میری مدد سے گریز نہیں کریں گے۔ اس نے بہتیر ا سمجھایا مگر بیٹے پر کوئی اثر نہ ہوا۔ باپ نے کہا کہ میں ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا مگر مجھے تو اب تک صرف ایک ہی دوست ملا ہے اور وہ بھی فلاں غریب شخص جسے جسے اس کا بیٹا حقارت سے دیکھا کرتا تھا اور اپنے باپ سے کہا کر تا کہ آپ اتنے ب اتنے بڑے ہو کر اس سپاہی سے کیوں محبت رکھتے ہو ؟ اور باپ ہمیشہ یہی کہتا کہ مجھے تمام عمر میں اگر کوئی سچا دوست ملا ہے تو یہی ہے۔ آخر ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم میری بات نہیں مانتے تو تجربہ کر لو اور اپنے دوستوں سے جا کر کہو کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔ میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں، میرے لئے رہائش اور خوراک کا انتظام کر دو۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ چنانچہ وہ ایک ایک کے پاس گیا۔ مگر جس دوست کے پاس بھی جاتا وہ پہلے تو کہتا کہ آپ نے بڑی عزت افزائی فرمائی سنائیے آپ کا کیسے آنا ہوا؟ اور جب یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے اب میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ میری رہائش وغیرہ کا انتظام کر دیں تو