خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 238

خطبات محمود 238 “اے میرے باپ ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔"3 * 1940 مگر یہ پیالہ ٹلا تو نہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کو دشمنوں نے صلیب پر لٹکا ہی دیا۔پھر خود رسول کریم ملی ایم کے گیارہ بچے فوت ہوئے۔کیا اس قسم کے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی الیم نے ان کے لئے دعائیں نہیں کی ہوں گی ؟ آپ کو اپنی اولاد سے جو محبت تھی اور آپ کے دل میں ان کے متعلق جس قسم کا درد پایا جاتا تھا اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ جب ابراہیم جو آپ کی نرینہ اولاد میں سے سب سے آخری بچہ تھا فوت ہوا تو آپ نے اس کی لاش کو اپنی گود میں اٹھالیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔4 پھر آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔حضرت عثمان بن مظعون ایک صحابی تھے جو سترہ اٹھارہ سال بلکہ اس سے بھی کم عمر میں رسول کریم صلی لی لی پر ایمان لائے ان کے ماں باپ ان کے شدید مخالف ہو گئے۔اتنے شدید کہ ان کی ماں ان کے ہاتھ سے پانی تک نہیں پیتی تھی مگر باوجود اس شدید محبت کے جو انہیں اپنی والدہ کے ساتھ تھی انہوں نے اسلام چھوڑنا گوارا نہ کیا۔آخر ان کے ماں باپ نے انہیں اپنے گھر سے نکال دیا اور کہہ دیا کہ جب تک محمد (صلی لیلی) کو نہیں چھوڑو گے ہم تجھے اپنے گھر میں نہیں آنے دیں گے۔انہوں نے خوشی سے اپنے گھر کو چھوڑ دیا اور کہہ دیا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔میر اباپ بھی محمد ہے اور میری ماں بھی محمد ہے (صلی للی )۔اور ایک مجلس میں اسلامی تعلیم کی تائید میں بول کر ایسی مار کھائی کہ آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی۔5 ان کی اس قربانی کی وجہ سے رسول کریم صلی ال نیم کو ان سے بہت محبت تھی اور آپ انہیں اپنے بچوں جیسا عزیز سمجھتے تھے۔بعد میں وہ ایک جنگ میں شہید ہو گئے۔جب رسول کریم صلی یکم کا بیٹا ابراہیمفوت ہوا تو آپ نے انہی عثمان بن مظعون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جا اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس۔الله سة غرض بعض روایات کے مطابق رسول کریم صلی ال نیم کے گیارہ بچے فوت ہوئے اور لازماً ہر بچہ کے متعلق رسول کریم صلی ال کلیم نے دعائیں کی ہوں گی مگر آخر اللہ تعالیٰ کی مشیت غالب آئی اور وہی ہوا جو اس نے چاہا تھا۔ایک دفعہ آپ قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے ایک بڑھیا کو دیکھا