خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 220

1940ء 220 خطبات محمود ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے جسم پر مٹی پڑی ہوتی ہے ، ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں مگر جب وہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ دیتے ہیں کہ ایسا ہو گا تو اللہ تعالیٰ ویسا ہی کر دیتا ہے اور ان کی بات کو پورا کر کے چھوڑتا ہے۔ 3 اس قسم کا تمسخر کرتی ہے۔ یہ بات کسی نبی، رسول یا مامور کے متعلق نہیں بلکہ عام مومن کے متعلق ہے۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کا کلام پڑھتے ہیں، اس کی تفسیریں شائع کرتے ہیں اور پھر ان کو بیچ کر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی روٹی کماتے ہیں۔ جو اس میں پڑھتے ہیں کہ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ 4 اور اُدْعُونِي اسْتَجِبْ لَكُمْ 5 مگر پھر بھی بے پرواہ ہو کر اس پر سے گزر جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ ان کو صرف اتناہی واسطہ ہے کہ اسے بیچ کر اس سے روٹی کمالیں اور پیٹ بھر لیں اور اس میں خدا تعالیٰ کے جو وعدے مومنوں سے ہیں اور جس رنگ میں اس کی قدر تیں ظاہر ہوتی ہیں ان کو وہ نظر انداز کر دیتے اور بھول جاتے ہیں۔ ان کی نگاہ ہماری ظاہری حالت پر پڑتی ہے جو ہندوستان میں ادنیٰ سے ادنی اقوام کے برابر بھی نہیں۔ ہریجنوں کے ریزولیوشن حکومت کے نزدیک زیادہ وقیع ہوتے ہیں مگر ہمارے نہیں حالانکہ ہریجن وہی لوگ ہیں جنہیں چوہڑے اور چمار کہا جاتا ہے۔ حکومت صرف تعداد کو دیکھتی ہے وہ ہندوستان میں سات کروڑ ہیں اور اگر حکومت کو ضرورت پیش آئے تو اسے سات لاکھ والنٹیر مہیا کر سکتے ہیں اور حکومت کی نظر میں دل کے اخلاص اور تقویٰ سے یہ چیز زیادہ قیمتی ہے۔ اس لئے وہ احمدیوں سے زیادہ ہریجنوں کی قدر کرتی ہے۔ 1917ء میں ایک جگہ احمدی سپاہیوں کو تکلیف تھی۔ میں شملہ میں تھا اور میں نے ذوالفقار علی خان صاحب یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ایڈ جو ٹنٹ جنرل(ADJUTANT GENRAL) کے پاس بھیجا کہ ان کے سامنے احمدیوں کی یہ تکالیف پیش کر کے ازالہ کرائیں اور ان کو بتائیں کہ یہ لوگ حکومت کے وفادار ہیں، انہوں نے ساری عمریں فوجی سروس میں گزار دی ہیں اور اب بعض افسر دوسرے لوگوں کے شور مچانے پر ان کو نکالنا چاہتے ہیں۔ وہ ملے اور یہ باتیں پیش کیں۔ ایڈ جو ٹنٹ جنرل نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی جماعت کے لوگوں پر ظلم ہوتے ہیں اور کہ وہ مدد کے مستحق ہیں لیکن ہمیں ہندوستان میں تین لاکھ فوج چاہیے۔ اگر ہم آپ لوگوں کی