خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 17

$1940 خطبات محمود 17 خدا نے ترکی اور مصر وغیرہ کے جو شیخ الا سلام کہلاتے یا علماء کے رئیس کہلاتے تھے ان سے یہ نہیں کہا بلکہ ہندوستان کے ایک شخص سے خدا نے یہ بات کہی اور ہندوستان میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلکتہ یا بمبئی کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی، لاہور یا امر تسر کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی، کسی ظاہری مرکز یا علمی اور سیاسی مرکز میں رہنے والے سے یہ بات نہیں کہی بلکہ خدا نے ریل سے دور، تمدن سے دور ، تعلیمی مرکزوں سے دور قادیان میں ، ایک ایسی بستی میں جو کور دیہہ کہلانے کی مستحق تھی اور جس کے رہنے والے بالکل جاہل تھے اور تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھے۔ایک ایسے شخص سے جو نہ عالم سمجھا جاتا تھا، نہ فاضل سمجھتا جاتا تھا، نہ مالدار تھا، اس کے گھر میں اور اسکے کان میں یہ بات کہی۔ہم کسی صورت میں بھی اندازہ نہیں کر سکتے اس کیفیت کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اُس وقت پیدا ہوئی ہو گی۔جس لڑائی کی آپ کو خبر دی گئی تھی وہ یقینا اس جنگ سے بہت اہم تھی اور ہے جو آجکل جر منی اور برطانیہ و فرانس میں جاری ہے۔تم میں سے آج اگر کسی بچہ کو خواب میں یہ کہا جائے کہ تمہارا فرض ہے کہ جاؤ اور جرمنی کو فتح کرو تو وہ نہایت حیران ہو کر صبح اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے کہے گا کہ آج میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے اور جب وہ بیان کرے گا تو لوگ ہنستے ہوئے کہیں گے کہ معلوم ہوتا ہے رات تم زیادہ کھا گئے ہو گے جس کی وجہ سے تمہیں بد ہضمی ہو گئی اور ایسا خواب آگیا۔وہ خواب کی طرف کبھی توجہ نہیں کرے گا۔ہاں کبھی کبھی ہنس کر اپنے دوستوں سے کہہ دے گا کہ میں نے ایک دفعہ ایک عجیب بے ہودہ ساخواب دیکھا تھا۔مگر اسی قسم کی کیفیت میں قادیان میں ایک شخص کو الہام ہو تا ہے اور اسے جس جنگ کی خبر دی جاتی ہے وہ اس جنگ سے بہت زیادہ اہم ہے۔پس اس کے قلب کی جو کیفیت ہوئی ہو گی اس کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔اگر تو وہ اس الہام کو اُس رنگ میں لے لیتا جیسے میں نے بچہ کی مثال دی ہے اور وہ سمجھتا کہ مجھے بد ہضمی ہو گئی ہے یا میں نے زیادہ کھا لیا تھا جس کے نتیجہ میں اس قسم کا خواب آیا یا بخار کی کیفیت تھی یا نزلہ اس کا باعث تھا تب بھی سمجھ آ سکتا ہے کہ اس نے اس عظیم الشان خبر کو سن کر اسے برداشت کر لیا ہو گا۔تبھی تو اس نے ہہ کرلی کہ یہ محض وہم ہے، دماغی خیال یا کسی بیماری کا نتیجہ ہے۔مگر اس نے یہ نہیں سمجھا توجیہہ