خطبات محمود (جلد 21) — Page 18
1940 18 خطبات محمود کہ یہ الہام کسی دماغی خرابی کا نتیجہ ہے، اس نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ کسی بیماری کا نتیجہ ہے، اس نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ کسی بد ہضمی کا نتیجہ ہے۔اس نے اسے خدا ہی کی آواز قرار دیا۔جیسا کہ وہ فی الحقیقت خدا کی طرف سے تھی اور اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ اتفاقی آواز ہے جو میرے کان میں پڑ گئی ہے بلکہ وہ فوراً اس آواز کا جواب دینے کے لئے تیار ہو گیا اور اس نے کہا اے میرے رب ! میں تیری طرف سے لڑائی کے لئے حاضر ہوں۔اگر وہ اس آواز کے جواب میں اپنے نفس کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ یہ میرا وہم ہے یا کسی اندرونی نقص اور بیماری کا نتیجہ ہے تو بے شک اس کے دل کو صبر آسکتا تھا اور ہم کہہ سکتے تھے کہ اس کی طبیعت میں اضطراب تو پیدا ہوا ہو گا مگر حد درجہ کا نہیں۔مگر اس نے جس رنگ میں اس کلام کو لیا اور اسکی اہمیت کو سمجھا وہ بتلاتا ہے کہ اس نے اسے کھیل نہیں سمجھا، اس نے اسے بیماری نہیں سمجھا، اس نے اسے بد ہضمی نہیں سمجھا، اس نے اسے دماغی خرابی نہیں سمجھا بلکہ اس نے نہایت یقین اور وثوق کے ساتھ یہ سمجھا کہ خدا نے واقع میں یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔پس وہ تاریک گھڑیاں اور اس کی بقیہ رات اس پر کیسی گزری ہوگی ؟ اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔ابھی تمہیں وہ مقام حاصل نہیں کہ تم بڑے لوگوں کی مجلسوں میں جاسکو۔تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ فرانس کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے۔تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ انگلستان کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے۔تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے یہ موقع مل سکتا ہو کہ وہ جرمنی کے کمانڈر انچیف کے پاس رات گزارے مگر باوجود اس کے کہ وہ بہت چھوٹی سی جنگ کے لئے کھڑے ہوئے ہیں، باوجود اس کے کہ ان کے پاس سامان موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ان کے پاس فوجیں موجود ہیں، باوجود اس کے کہ ان کا تمام ملک ان کی مدد کے لئے کھڑا ہے پھر بھی ان کی راتیں اور دن جس کرب سے گزرتے ہیں اور جس بھاگ دوڑ سے وہ کام لے رہے ہیں اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کو کبھی تھوڑی دیر کے لئے ان کے پاس جانے اور رہنے کا موقع ملا ہو۔مگر یہ شخص جس پر رات آئی اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج انگلستان کے کمانڈر انچیف کو حاصل ہیں، اس کے پاس وہ سامان نہ تھے جو آج فرانس کے کمانڈر انچیف کو