خطبات محمود (جلد 21) — Page 16
* 1940 16 خطبات محمود ایک نیا کام شروع ہے۔اسی طرح جب ہماری جماعت نے اس جلسہ کو خوشی کا جلسہ قرار دیا تو بالفاظ دیگر انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمار اپہلا پیج جو بویا ہوا تھا اس کی فصل پک گئی اب ہم نیا بیج بو رہے ہیں اور نئی فصل تیار کرنے میں مصروف ہو رہے ہیں۔یہ اقرار بظاہر معمولی نظر آتا ہے لیکن اگر جماعت کی حالت کو دیکھا جائے تو اس اقرار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی اور اس پر ایسی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اگر اس کے افراد رات دن کو شش نہ کریں تو اس ذمہ داری سے کبھی عہدہ بر آ نہیں ہو سکتے۔اس پچاس سالہ دور کے متعلق ہم نے جو خوشی منائی ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اس دور کی پہلی فصل کس طرح شروع ہوئی تھی ؟ جب ہم اس نقطۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس پہلی فصل کا بیج صرف ایک انسان تھا۔رات کو دنیا سوئی۔ساری دنیا اس بات سے ناواقف تھی کہ خدا اس کے لئے کل کیا کرنے والا ہے۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کل کیا ظاہر کرنے والی ہے؟ یہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے۔ایک فرد بھی دنیا کا نہیں تھا جس کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے۔یکدم بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انتباہ ہو ، بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انذار ہو، بغیر اس کے کہ پہلے کوئی اعلان ہو، ایک شخص جس کو خود بھی یہ معلوم نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے ؟ خدا نے اس کو جگایا اور کہا کہ ہم دنیا میں ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانا چاہتے ہیں اور تم کو اس زمین اور آسمان کے بنانے کے لئے معمار مقرر کرتے ہیں۔اس کے لئے یہ کتنی حیرت کی بات ہو گی؟ اس وسیع دنیا میں بڑی بڑی حکومتیں قائم تھیں ، بڑے بڑے نظام قائم تھے۔پھر اس وسیع دنیا میں باوجو د مسلمانوں کے سابقہ شوکت کھو چکنے کے آج سے پچاس سال پہلے ان کی حکومتیں موجود تھیں، ٹرکی ابھی ایک بڑی طاقت سمجھتی جاتی تھی، مصر بھی آزاد تھا، ایران اور افغانستان آزاد تھے اور یہ اسلامی حکومتیں اسلام کی ترقی اور اس کی تہذیب کا گہوارہ کہلاتی تھیں مگر یہاں وہ آواز پیدا نہیں ہوئی۔خدا نے ترکوں کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی۔خدا نے مصر کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی۔خدا نے ایران کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی۔خدا نے افغانستان کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی۔