خطبات محمود (جلد 21) — Page 120
1940 120 خطبات محمود شوکت اور عظمت ان پر ظاہر کرتے۔مگر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اس تین سال کے عرصہ میں انہوں نے کیا اصلاح کی اور کتنے آریوں اور عیسائیوں پر اتمام حجت کی یا کیا وہ اب اس بات کے لئے تیار ہیں کہ آریوں اور احرار وغیرہ کے خلاف لکھیں گے ؟ یقینا وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے اس فتنہ کی بنیاد ہی آریوں اور احرار کی مدد پر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ انہی کی مدد پر جی رہے ہیں۔اگر وہ ان کے خلاف لکھیں تو ان کا خدا ہی مر جائے۔پس ان کے خلاف لکھنے کی وہ کبھی جرات نہیں کر سکتے۔نتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم کے ماتحت کوئی جماعت بھی کام نہیں کر رہی۔ہم نہیں کر رہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک ہم گمراہ ہیں، غیر مبائعین نہیں کر رہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک وہ بھی گمراہ ہیں اور میں بتا چکا ہوں کہ خود مصری صاحب بھی یہ کام نہیں کر رہے۔پس وہ بھی گمراہ ہوئے اور جب تمام کے تمام لوگ گمراہی پر قائم ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ جماعت کون سی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کی تھی اور جسے آپ کی بتائی ہوئی تعلیم کے ماتحت دنیا میں کام کرنا چاہیئے تھا؟ غرض یہ وہ باتیں ہیں جو جماعت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئیں اور وقتا فوقتا ان لوگوں کے سامنے انہیں پیش کرتے رہنا چاہیئے۔پھر اس امر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ مخالف کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے دلائل پر پوری طرح غور کر لیا جائے اور سوچ کر اور سمجھ کر اور فکر سے کام لے کر سوالات کا جواب دیا جائے۔بعض دفعہ غور سے کام نہیں لیا جاتا اور یو نہی جواب دے دیا جاتا ہے یہ درست طریق نہیں۔مثلاً آجکل ذریت مبشرہ کے متعلق بحث ہو رہی ہے میرے نزدیک سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ لعنت کے لحاظ سے اس پر بحث کی جاتی۔اگر ہماری جماعت کے دوست لغت کے لحاظ سے اس پر بحث کرتے تو اس بحث کا خاتمہ ہی ہو جاتا۔اسی طرح بعض اور سوالات کا جواب دیتے وقت بھی میرے نزدیک پرانے لٹریچر کو نہیں پڑھا گیا۔اسی طرح ایک اور بحث بھی ہے مگر میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا تا کہ مخالف ہوشیار نہ ہو جائے مگر اس کے متعلق بھی ایسے رنگ میں بحث کی جاسکتی تھی کہ مخالف اپنے منہ سے آپ ہی مجرم بن جاتا ہے۔