خطبات محمود (جلد 21) — Page 121
خطبات محمود 121 $1940 پھر یہ بات بھی یاد رکھو کہ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ظاہر گناہ ہوتے ہیں اور ایک مخفی گناہ۔جو گناہ کسی کے باطن سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق شریعت نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ ہم ان کے بارہ میں جستجو نہ کیا کریں لیکن جو ظاہر گناہ ہوتے وہ چونکہ ہر ایک کو دکھائی دیتے ہیں اس لئے ان کے بارہ میں تجس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔اب دیکھو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہ نئی پارٹی جو ہمارے خلاف نکلی ہے۔اسی طرح جو پیغامی ہمارے خلاف مضامین لکھتے رہے ہیں ان میں سے اکثر ڈاڑھی منڈے ہوتے ہیں۔اب بتاؤ کیا اللہ اور اس کے رسول کی حمایت کا جوش انہی لوگوں میں زیادہ ہوا کرتا ہے جو شریعت کی اس طرح کھلے طور پر ہتک کرنے والے ہوں۔وہ اصلاح کا دعویٰ کرتے ہوئے اٹھے ہیں مگر ان کے اپنے بیٹے اور رشتہ دار اور دوسرے قریبی سب ڈاڑھیاں منڈواتے ہیں۔وہ ہمارے خلاف جب لکھنے پر اترتے ہیں تو وہ ہمارے ان گناہوں کے متعلق بھی لکھ جاتے ہیں جو مخفی ہوتے ہیں اور جن کے متعلق شریعت انہیں یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ان کا ذکر کریں مگر کیا انہوں نے اپنا منہ کبھی شیشہ میں نہیں دیکھا اور کیا مصلح ایسے ہی ہوا کرتے ہیں؟ ممکن ہے وہ کہہ دیں کہ ہم نے کبھی شیشہ استعمال نہیں کیا مگر خدا نے ان کو آنکھیں تو دی ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں اور دوسرے رشتہ داروں کی کیا صورت ہے اور کیا ایسی صورتیں ہی لوگوں کی ر اصلاح کیا کرتی ہیں ؟ پھر ان لوگوں کے اخلاق کی حالت یہ ہے کہ میں ابھی سندھ میں ہی تھا کہ وہاں مجھے ایک رسالہ ملا جس میں لکھنے والے نے یہ ذکر کیا تھا کہ میں نے ایک دفعہ رجسٹر ڈ خط آپ کو بھجوایا تھا جس میں فلاں بات میں نے بیان کی تھی مگر اس کا کوئی مجھے جواب نہیں ملا حقیقت یہ ہے کہ وہ خط دفتر نے میرے سامنے پیش ہی نہیں کیا تھا کیونکہ جیسا کہ انہوں نے مجھے بتایا انہوں نے اس کے پیش کرنے کی ضرورت نہ سمجھی اور دفتر متعلقہ میں بھجوا دیا۔بہر حال وہ رساله شیخ غلام محمد صاحب کا تھا جو انہی پیغامیوں میں سے الگ ہو کر آجکل مصلح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔میں ان دنوں چونکہ کسی قدر فارغ تھا اس لئے میں نے اس رسالہ کو کھولا اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔اس رسالہ میں لکھا ہوا تھا کہ ایک پیغامی ڈاکٹر یہ بیان کرتا ہے کہ میں