خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 119

$1940 119 خطبات محمود خبر دی، جس کی یاد میں ہزاروں نہیں لاکھوں ائمہ دین اور صلحاء و اولیاء دعائیں کرتے ہوئے اس جہان سے گذر گئے۔وہ اس جہان میں آیا اور چلا گیا اور سوائے گمراہی اور ضلالت کے دنیا میں کچھ چھوڑ نہیں گیا۔پس یا تو غیر مبائعین مصری صاحب سے یہ اعلان کروا دیں کہ انہوں نے پیغامیوں کے متعلق جو کچھ لکھا تھا وہ صحیح نہیں تھا اور یہ کہ اب انہیں غور کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ پیغامی ہی حق پر ہیں۔اس صورت میں بے شک ان کا پہلو مضبوط ہو سکتا ہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس جماعت کو سچائی پر قائم کیا اور جو صحیح معنوں میں آپ کی جماعت کہلا سکتی ہے وہ غیر مبائعین کی ہے لیکن جب تک وہ یہ اعلان نہیں کرتے کہ پیغامی حق پر ہیں اس وقت تک گویا ان کے نزدیک اس وقت روئے زمین پر کوئی جماعت بھی ایسی نہیں جو صداقت اور راستی پر قائم ہو کیونکہ غیر مبائعین کی گمراہی کے متعلق ان کا پہلا عقیدہ اب تک قائم ہے اور ہماری گمراہی کے متعلق ان کے موجودہ اعلانات موجود ہیں اور ان کی اپنی گمراہی اس طرح ظاہر ہے کہ وہ اپنا سارا زور اس فتنہ کے مٹانے کے لئے صرف کر رہے ہیں جو اُن کے نزدیک بڑا ہے مگر جنہیں خدا اور اس کے رسول نے بڑا فتنہ قرار دیا ہے ان کے استیصال اور اسلام کی اشاعت کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے مبعوث نہیں فرمایا تھا کہ آپ کے ذریعہ پہلے ایک جماعت قائم کرے اور پھر آپ کی وفات کے ساتھ ہی اس میں بگاڑ پیدا کر دے اور کچھ عرصہ کے بعد اس کی اصلاح کے لئے کسی کو کھڑا کر دے۔کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہوا کرتا ہے جو مکان بنائے اور پھر توڑ ڈالے اور توڑنے کے بعد پھر اسے بنانا شروع کر دے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض صرف یہ تھی کہ آپ دنیا کی اصلاح کریں اور یہی کام ہے جو آپ کی جماعت کے سپرد ہے۔پس جب ہم بھی گمراہ ہیں ، جب غیر مبائعین بھی گمراہ ہیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحیح تعلیم پر صرف مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہی قائم ہیں تو کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ وہ اس تین سالہ عرصہ میں عیسائیوں کے خلاف لکھتے ، آریوں کے خلاف لکھتے، مذاہب باطلہ کا رڈ کرتے اور اسلام کی