خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 434

$1940 433 خطبات محمود تو اس وقت بڑے بڑے سکھ خاندانوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا اور مہاراجہ کے خاندان سے غداری کی مگر ہمارے دادا صاحب نے کہا کہ میں نے اس خاندان کا نمک کھایا ہے اس سے غداری نہیں کر سکتا۔کیا وجہ ہے کہ سکھ زمینداروں کی جاگیریں تو قائم ہیں مگر ہماری چھین لی گئی۔اس غصہ میں انگریزوں نے ہماری جائداد چھین لی تھی کہ ہمارے دادا صاحب نے سکھوں کے خلاف ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ مہاراجہ صاحب نے سات گاؤں واپس کئے تھے۔پھر وہ کہاں گئے ؟ وہ اس وجہ سے انگریزوں نے ضبط کر لیے کہ ہمارے دادا صاحب نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے مہاراجہ صاحب کی نوکری کی ہے ان کے خاندان سے غداری نہیں کر سکتے۔بھاگووال کے ایک اتنی پچاسی سالہ بوڑھے سکھ کپتان نے مجھے سنایا کہ میرے دادا سناتے تھے کہ ان کو خود سکھ حکومت کے وزیر نے بلا کر کہا کہ انگریز طاقتور ہیں ان کے ساتھ صلح کر لو خواہ مخواہ اپنے آدمی مت مرواؤ مگر ہمارے دادا صاحب نے مہاراجہ صاحب کے خاندان سے بے وفائی نہ کی اور اسی وجہ سے انگریزوں نے ہماری جائداد ضبط کر لی۔بعد میں جو کچھ ملا مقدمات سے ملا مگر کیا ملا قادیان کی کچھ زمین دے دی گئی۔باقی بھینی، ننگل اور کھارا کا مالکان اعلیٰ قرار دے دیا گیا۔مگر یہ ملکیت اعلیٰ سوائے کاغذ چاٹنے کے کیا ہے؟ یہ برائے نام ملکیت ہے جو اشک شوئی کے طور پر دی گئی۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دادا صاحب نے غداری پسند نہ کی۔ہاں جب انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئی تو پھر ان سے وفاداری کی ہے۔پس یہ تعریف کے قابل بات تھی۔سکھ لیکچر اروں کو کہنا چاہیے تھا کہ ہمارے دادا صاحب نے مسلمان ہونے کے باوجو د سکھوں سے غداری نہیں کی مگر کہا یہ گیا کہ وہ گھاس منہ میں لے کر مہاراجہ صاحب کے پاس پہنچے کہ کچھ دیا جائے۔یہ کہنے والے کو معلوم نہیں کہ ہمارے پاس آج تک وہ تحریر موجود ہے جو شاہ فرخ سیر نے ہمارے پر دادا صاحب کو لکھی ہے اور اس میں ان کو عضد الدولہ کا خطاب اور سات ہزار فوج رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔اگر ہماری جاگیر مہاراجہ صاحب کی دی ہوئی ہے تو ان سے بہت پہلے یہ مناصب کیونکر حاصل ہو گئے۔فرخ سیر تو اور نگ زیب سے قریبی زمانہ