خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 433

خطبات محمود 432 $1940 مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ہمارے دادا کو جائداد دی تھی۔ممکن ہے یہ کہنے والا باہر سے آیا ہو مگر اس علاقہ کے بڑے بوڑھوں سے دریافت کرو کہ ہمارا خاندان قاضی تھا یا حاکم۔اگر ہمارے بزرگ ملانے تھے تو کیا سکھوں کی چار مسلیں اکٹھی ہو کر ملانوں سے مقابلہ کے لئے آئی تھیں۔سکھوں کی کل مسلیں پندرہ سولہ تھیں جن میں سے چار نے مل کر قادیان پر حملہ کیا تھا اور اب بھی بسر اواں میں قلعوں وغیرہ کے نشانات ہیں جن پر تو ہیں وغیرہ نصب کی گئی تھیں۔کیا یہ چار پانچ مسلیں مل کر کسی مسجد کے امام یا ئلا سے مقابلہ کے لئے آئی تھیں۔ہمارا خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے اس علاقہ کا حاکم تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کا زمانہ تو بعد کا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کی ہتک کی ہے۔مگر یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔میں نے سکھ تاریخ پوری طرح نہیں پڑھی مگر میرے دل میں مہاراجہ صاحب کی عزت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کی تعریف سنی ہے۔جن سکھوں کے خلاف آپ نے لکھا ہے وہ طوائف الملوکی کے زمانہ کے تھے اور ایسے زمانہ کو ہر قوم بُرا کہتی ہے۔اور خود سکھ بھی بُرا سمجھتے ہیں۔مگر جب مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ایک منظم حکومت قائم کر لی تو اس زمانہ کی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعریف ہی سنی ہے اور اس وجہ سے میرے دل میں ان کی عزت ہے۔انہوں نے ایک معمولی زمیندار کا فرزند ہو کر ایسی عقلمندی دکھائی کہ پنجاب میں ایک منظم حکومت قائم کر دی۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ ہم ان کی بہتک کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مہاراجہ صاحب نے ہی یہ گاؤں واپس کیا۔پس جن کو بُرا کہا گیا ہے وہ طوائف الملوکی کے زمانہ کے سکھ ہیں۔بے شک مہاراجہ صاحب نے یہ گاؤں واپس کیا لیکن ہمارے خاندان نے بھی ہمیشہ ان کے خاندان سے وفاداری کی۔جب انگریزوں سے لڑائیاں ہوئیں تو بعض بڑے بڑے سکھ سرداروں نے روپے لے لے کر علاقے انگریزوں کے حوالہ کر دیئے اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جاگیریں موجود ہیں۔یہاں سے پندرہ بیس میل کے فاصلہ سکھوں کا ایک گاؤں بھا گو وال ہے وہاں سکھ سردار ہیں مگر وہ بھی انگریزوں سے مل گئے تھے۔