خطبات محمود (جلد 21) — Page 432
خطبات محمود 431 $1940 کا حق ہے تو ان سے زیادہ تعداد والوں کو ان کے بزرگوں کے متعلق بھی ایسے الفاظ استعمال کرنے کا حق ہونا چاہیے۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گیدڑ کہنے سے ان کے گروؤں کی عزت بڑھ جاتی ہے ؟ ایسی باتوں کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ اگر ہم بھی دوسروں کی طرح ہوں تو فساد ہو جائے۔اسی طرح بعض اور بھی گندے الفاظ استعمال کئے گئے۔ایسے گندے کہ جن کو انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور اس کی وجہ جواز اُن کے لئے سوائے اس کے اور کیا ہے کہ ہم تعداد میں زیادہ ہیں لیکن اگر اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔لیکن یہ بات انصاف کے سراسر خلاف ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ ان باتوں سے کچھ نہیں ہو تا۔شیر کو گیدڑ کہنے سے وہ گیدڑ بن نہیں جاتا۔جس طرح کہ سورج کو رات کہنے کا کوئی اثر نہیں وہ برابر طلوع کرتا رہتا ہے۔جسے خدا تعالیٰ نے شیر بنایا ہے کسی کے گیدڑ کہنے سے اس کی شیری میں فرق نہیں آسکتا۔گیدڑ وہی احراری ہیں جو سکھوں کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں کیونکہ وہ سب لوگ جو اس وقت احمدی ہیں حضرت مرزا صاحب انہی میں سے چھین کر لائے ہیں۔وہ اکیلے تھے جب انہوں نے دعویٰ کیا اور پھر اکیلے نے سارے ہندوستان پر غلبہ پایا۔روحانیت سے حملہ کر کے کسی دنیوی حملہ سے نہیں اور لاکھوں کو ان مولویوں کے پنجہ سے چھین کر لے آئے۔ان سے پوچھا جائے کہ کیا گیدڑ ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ آپ کے شیر ہونے کی علامت روزانہ الفضل میں شائع ہوتی ہے کہ آج اتنے احمد کی ہوئے ، آج اتنے ہوئے۔دنیا میں کوئی ایسا شیر نہیں جو تین چار سو سے زیادہ شکار سال میں کر سکتا ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر سال چار پانچ سو آدمیوں کو ان لوگوں سے چھین لیتے ہیں اور ایسے وقت میں لاتے ہیں جب آپ فوت ہو چکے ہیں۔ہم تو ان باتوں کی پر واہ نہیں کرتے اور ہمیں یقین ہے کہ خود ان میں سے شریف طبقہ بھی اس کی تردید کرے گا۔انہیں خود سوچنا چاہیے کہ اگر ان گالیوں کا دسواں حصہ بھی ان کے گروؤں کے متعلق استعمال کیا جائے تو ان کی کیا حالت ہو گی ؟ ان کو غصہ آئے گا یا نہیں ؟ اگر وہ اپنے بزرگوں کی عزت کرانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ دوسروں کے بزرگوں کی بھی عزت کریں۔بعض تقریروں میں کہا گیا ہے کہ ہمارا خاندان اس علاقہ کا قاضی تھا اور