خطبات محمود (جلد 21) — Page 431
$1940 430 خطبات محمود ضلع کے افسروں کو کرنی چاہیے تھی کیونکہ جس بات سے امن میں خلل کا احتمال ہو حکومت کا فرض ہے کہ اس کی تردید کرے۔جب لاہور میں مسجد شہید گنج گرائی گئی تو یہ بات مشہور ہوئی تھی کہ چودھری افضل حق صاحب نے حکومت کو یہ مشورہ دیا تھا کہ اگر شہید گنج کو مسجد سے گوردوارہ میں تبدیل کر دیا جائے تو مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔اس وقت حکومت نے اس خبر کی تردید کی تھی۔اور جب چودھری افضل حق صاحب کی عزت کی حفاظت حکومت نے ضروری سمجھی تو کیا ضلع کے امن کے پیش نظر اس کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ اس افواہ کی تردید کرتی۔پھر اس جلسہ میں سلسلہ کے متعلق بھی بہت کچھ کہا گیا۔سخت اشتعال انگیز نظمیں پڑھی گئیں اور تقریریں کی گئیں۔اور اگر سکھ ایسی باتوں کو اس وجہ سے جائز سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے مقابلہ میں زیادہ ہیں تو ان کو مسلمانوں پر اعتراض کا کیا حق ہے؟ اور وہ پاکستان کی مخالفت کس اصول کے ماتحت کرتے ہیں ؟ اگر وہ محض اس وجہ سے کہ وہ ہم سے زیادہ ہیں ہم کو گالیاں دے سکتے ہیں تو مسلمان اگر ان سے یہی سلوک کریں تو ان کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔تمام شرفاء ہندو، سکھ ، مسلمان ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اگر امن قائم رکھنا ہے تو وہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ سب کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور اس بات کی بنیاد عقل پر ہے۔کسی کو دوسرے پر زیادتی کا حق محض اس وجہ سے نہیں دیا جا سکتا کہ اس کی تعداد دوسرے کی نسبت کچھ زیادہ ہے۔تھپڑ مار نا صرف بچے کے لئے ہی نا جائز نہیں بلکہ پہلو ان کے لئے بھی ناجائز ہے۔یہ جبر ہے کہ پہلوان تو تھپڑ مار سکتا ہے مگر بچہ نہیں مار سکتا۔ایک شخص نے اپنی تقریر میں کہا کہ مرزا صاحب گیدڑ تھے (نعوذ باللہ ) کیا یہ انصاف کی بات ہے ؟ ان کے گروؤں کے متعلق اگر کوئی شخص یہی بات کہے تو کیا وہ بر داشت کر سکتے ہیں ؟ کیا وہ ایسی باتیں کہنے میں اپنے آپ کو اس وجہ سے حق بجانب سمجھتے ہیں کہ ان کے اس علاقہ میں نوے گاؤں ہیں یا پنجاب میں ان کی تعداد تیس لاکھ ہے اور احمدی تھوڑے ہیں۔یہ بات بالکل غیر موزوں ہے اور میں سمجھتا ہوں خود ان کی قوم کے شرفاء بھی اسے قابلِ اعتراض قرار دیں گے۔اگر ہم سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو ہمارے بزرگوں کے متعلق ایسے الفاظ