خطبات محمود (جلد 21) — Page 236
$1940 236 خطبات محمود صبح سے شام تک ہمارے تمام کاموں میں چلتا ہے۔لیکن دعا بہت بڑا وقت چاہتی ہے۔بسا اوقات وہ سالوں چاہتی ہے، بسا اوقات مہینوں چاہتی ہے، بسا اوقات ہفتوں چاہتی ہے بسا اوقات دنوں چاہتی ہے اور بسا اوقات گھنٹوں چاہتی ہے اور کبھی جب وہ دعا اللہ تعالیٰ کے الہام کے ماتحت ہوتی ہے تو منٹوں میں بھی قبول ہو جاتی ہے۔ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے کہ میر ابندہ منہ سے ایک فقرہ کہہ دے میں فوراً اسے قبول کرلوں گا اور در حقیقت یہ بھی دعا نہیں ہوتی بلکہ ایک ناز ہوتا ہے۔ایسا ہی ناز جیسے عاشق اور معشوق کے درمیان ہوتا ہے یا جیسے بچوں کے متعلق بعض دفعہ ماں باپ چاہتے ہیں کہ انہیں مٹھائی کی ڈلی یا کھانے کے لئے کوئی پھل دے دیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ بچہ اپنی زبان سے چیز مانگے۔چنانچہ وہ مٹھائی کی ڈلی یا پھل اسے دکھا کر کہتے ہیں کہ کہو یہ ہمیں دے دو اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچہ ادھر مانگے اور اُدھر اسے دے دیا جائے۔ایسی حالت میں بچہ بعض دفعہ ضد کر کے نہیں مانگتا تو ماں باپ اصرار کرتے چلے جاتے ہیں کہ نہیں ضرور ما نگو کیونکہ ان کا اپنا دل چاہتا ہے کہ بچہ مانگے اور وہ دیں۔اسی طرح کبھی اللہ تعالیٰ کا بھی دل چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اس سے مانگے اور وہ کہتا ہے اے میرے بندے مجھ سے مانگ تا تجھے دوں۔چنانچہ منہ سے نکالنے کی دیر ہوتی ہے کہ بندے کو اس کی مانگی ہوئی چیز مل جاتی ہے۔پس ایک ہوتی ہے انابت، ایک ہو تا ہے ناز اور ایک ہوتی ہے دعا۔انابت تو گل کا ایک حصہ ہے اور یہ ہر وقت مومن کے ساتھ رہتی ہے۔حتی کہ اگر کسی کے دل میں انابت نہ ہو تو وہ مومن ہی نہیں ہو سکتا۔اگر اسے پیاس لگتی ہے تو اس انابت کی وجہ سے اسے یقین ہو تا ہے کہ خدا ہی پانی پلائے گا، بھوک لگتی ہے تو اسے یقین ہو تا ہے کہ خدا ہی کھانا کھلائے گا، مکان کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ خدا ہی مکان مہیا کرے گا، کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ خدا ہی اسے کپڑے پہنائے گا۔بے شک وہ کئی کاموں میں بیوی سے بھی مدد لیتا ہے، مثلاً وہ بیوی سے کھانا پکواتا ہے، کپڑے سلواتا ہے، پانی پینے کی ضرورت ہو تو اسے کہتا ہے کہ پانی لا دو اور اسی طرح بیوی کے بہت سے کام یہ کرتا ہے مگر ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ بیوی کی زندگی خدا کے اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں۔