خطبات محمود (جلد 21) — Page 133
خطبات محمود 133 $1940 سامری ہے اور تجھ میں بد روح ہے۔آپ نے ان کو جواب دینا تھا اور بتانا تھا کہ میں جو تعلیم لایا ہوں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے شیطان کی طرف سے نہیں۔آپ نے ان کے جواب میں اس مثال کو دہرانا تھا چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ”اگر خدا تمہارا باپ ہو تا تو تم مجھ سے محبت رکھتے۔اس لئے کہ میں خدا سے نکلا اور آیا ہوں کیونکہ میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اسی نے مجھے بھیجا۔تم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے ؟ اس لئے کہ میرا کلام سن نہیں سکتے تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔3 اب اگر اس سارے واقعہ کو علیحدہ کر کے صرف اسی کو لے لیا جائے کہ تم اپنے باپ ابلیس سے ہو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے گالی دی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں۔تو بعض دفعہ کوئی لفظ اگر الگ کر کے دیکھا جائے تو وہ سخت معلوم ہوتا ہے مگر اپنی جگہ پر وہ سخت نہیں ہو تا۔پس دوستوں کو چاہیئے کہ ہمیشہ نرم الفاظ استعمال کیا کریں۔بے شک ان کی سخت کلامی کو دیکھ کر طبیعت میں غصہ آجاتا ہے مگر اس غصہ کے نکالنے کی میں ایک اور ترکیب بتا دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بجائے ان کو گالیاں دینے کے ان کی دی ہوئی گالیوں کو جمع کر دیا جائے اور پھر ان کو شائع کر دیا جائے۔یہ بہت مؤثر طریق ہے۔یہ لوگ ہمیشہ سخت کلامی کرتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ مبائعین سختی کرتے ہیں اس لئے جس دوست کے دل میں ان کی سخت کلامی کی وجہ سے غصہ پید اہو وہ بجائے جواب میں سختی کرنے کے ان کی گالیوں کو جمع کر دے۔ان کے مضامین اور کتابوں میں کافی گالیاں ہمیں دی گئی ہیں۔ایک دفعہ میں ڈلہوزی میں تھا کہ مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری، دلاور خان صاحب جو صوبہ سرحد میں اسسٹنٹ کمشنر ہیں اور سید عبد الجبار شاہ صاحب جو پہلے سوات کے بادشاہ تھے مگر اب معزول ہیں تینوں یا ان میں سے کوئی دو وہاں میرے پاس پہنچے۔یہ تینوں اُس زمانہ میں پیغامی تھے اور اب ان میں سے دو تو بیعت کر چکے ہیں اور تیسرے یعنی عبد الجبار شاہ صاحب کسی کی طرف بھی نہیں۔گو پیغامی ان کو اپنی طرف ظاہر کرتے ہیں بہر حال وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں ہیں۔یہ لوگ میرے پاس آئے اور بیان کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صلح ہو جائے۔میں نے کہا صلح سے بہتر کیا چیز ہے مجھے منظور ہے۔آپ صلح کی تجاویز پیش کریں۔