خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 134

$1940 134 خطبات محمود انہوں نے غور و فکر کے بعد کہا کہ فی الحال اور صلح تو ممکن نہیں یہ ممکن ہے کہ ایک دوسرے کو برا بھلا نہ کہا جائے۔میں نے کہا بہت اچھا۔یہ لوگ مولوی محمد علی صاحب کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے مولوی صاحب بھی ڈلہوزی میں ہی تھے۔آخر فیصلہ ہوا کہ ایک دوسرے کو بُرا بھلا نہ کہنے کے متعلق سمجھوتہ ہو جائے۔چنانچہ سمجھوتہ ہوا اور لکھا گیا۔اسکے بعد میں نے مولوی محمد علی صاحب کی دعوت کی اور مولوی صاحب نے میری کی اور فیصلہ ہو گیا کہ اخباروں کو روک دیا جائے کہ ایک دوسرے کو برابھلا نہ کہیں۔مگر کچھ عرصہ کے بعد پیغام صلح میں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا ایک مضمون نکلا جو بہت سخت تھا۔اس پر میں نے ان صلح کرانے والوں کو توجہ دلائی اور مجھے سید عبد الجبار صاحب کا خط آیا کہ میں نے مولوی غلام حسن خان صاحب سے بات چیت کی ہے اور ہم دونوں کی یہی رائے ہے کہ پیغام صلح نے زیادتی کی ہے اور معاہدہ کو توڑا ہے۔دلاور خان صاحب تو جلدی ہی بعد میں بیعت میں شامل ہو گئے اور مولوی غلام حسن خان صاحب نے اب بیعت کر لی ہے۔سید عبد الجبار شاہ صاحب نے دو کشتیوں میں پیر رکھے ہیں۔یہ میری رائے ظاہر ی لحاظ سے ہے دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اسی ضمن میں مجھے ایک لطیفہ بھی یاد آگیا۔دلاور خان صاحب سر عبد القیوم صاحب کے جو صوبہ سرحد میں پہلے وزیر اعظم تھے اب فوت ہو چکے ہیں داماد ہیں۔دراصل وہ ان کی بہن کے داماد ہیں مگر چونکہ بہن کی اولاد کو سر موصوف نے ہی اپنے طور پر پالا تھا اس لئے سر موصوف دلاور خان صاحب کو اپنی اولاد ہی کی طرح چاہتے تھے۔وہ وائسرائے کی کونسل کے ممبر تھے اور اس سلسلہ میں شملہ آئے ہوئے تھے کہ میری ان سے ملاقات ہوئی۔ان کے ایک چچازاد بھائی بھی احمدی ہیں۔بھائی سے تو ان کو کچھ رقابت تھی مگر خان صاحب سے محبت تھی۔میں اسمبلی دیکھنے گیا تو وہ وہاں مجھے ملے اور کہنے لگے کہ میرا بھائی آپ کا غالی مرید ہے۔بات کرتے وقت اتنا جوش میں آجاتا ہے کہ اسے سمجھ نہیں رہتی دلیل کیا ہوتی ہے۔دلاور خان سے اس کی بحث ہوئی۔دلاور خان تو ٹھنڈی باتیں کرتے رہے مگر اسے طیش آ گیا۔دراصل اپنے بھائی کے متعلق ان کا جو خیال پہلے سے تھا اس رائے میں بھی وہ غالب تھا۔اُس وقت اسمبلی کے بعض اور ممبر بھی کھڑے تھے اور وہ اس رنگ میں بات کر رہے تھے کہ گویا آپ کے مرید کو