خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 132

* 1940 132 خطبات محمود خدا تعالیٰ سے زیادہ صداقت کے لئے کس کو جوش ہو سکتا ہے ؟ محمد رسول اللہ صلی املی کام سے زیادہ جوش کسے ہو سکتا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ کسے ہو سکتا ہے ؟ مگر دیکھ لو انہوں نے سختی سے کام نہیں لیا۔وہ سوائے اس کے کہ جہاں مجبور ہیں کہ صداقت کو بیان کریں کبھی سختی سے کام نہیں لیتے۔بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ دے دیتے ہیں کہ آپ نے فلاں جگہ یہ لفظ استعمال کیا ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ آپ کی ایک پوزیشن مجسٹریٹ کی ہے۔مجسٹریٹ کو مجبوراً اپنے فیصلہ میں بعض الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔مثلاً جب اس کے سامنے کسی چور کا مقدمہ پیش ہو تو اسے سزا دیتے وقت اسے لکھنا پڑتا ہے کہ تم نے چوری کی ہے اس لئے میں تمہیں چھ ماہ قید کی سزا دیتا ہوں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ تم نے دور کعت نماز ادا کی ہے اس لئے چھ ماہ قید کی سزا دیتا ہوں اسے مجبوراً چور کا لفظ استعمال کرنا پڑتا ہے۔اگر وہ مجسٹریٹ نہ ہو تاتو ممکن ہے وہ چور کا لفظ استعمال نہ کرتا مگر چونکہ سرکاری قانون چوری کی سزا مقرر کرتا ہے اس لئے اسے یہ لفظ استعمال کرنا پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھے اس لئے بعض دفعہ آپ نے بعض موقعوں پر بعض لوگوں کی حقیقت بیان کرنے کے لئے مجبوراً بعض الفاظ استعمال کئے ہیں مگر وہ مجسٹریٹ کی حیثیت سے کئے ہیں اور چونکہ ہماری یہ پوزیشن نہیں اس لئے ہمیں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ہمارے لئے ان الفاظ کا استعمال اسوہ نہیں ہے۔ہمارے لئے اسوہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔آپ نے ذاتی حیثیت سے جو جواب دیئے ہیں وہ ایسے نرم ہیں کہ پڑھنے والے کے دل پر اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اسی طرح قرآن مجید کے بعض الفاظ کو سخت کلامی کی تائید میں پیش کرنا درست نہیں کیونکہ وہ بھی حقیقت کے بیان کے طور پر ہیں اور پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض الفاظ دوسرے کلام سے مل کر نرم ہو جاتے ہیں اور اگر دوسرے کلام سے علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو سخت معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم ابراہیم کے فرزند نہیں ہو بلکہ تمہارا باپ ابلیس ہے۔اب یہ سخت لفظ ہے لیکن اس کے استعمال کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے متعلق یہود نے بعض ایسے الفاظ استعمال کئے تھے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقبول بندے نہیں اور کہا تھا کہ تُو