خطبات محمود (جلد 20) — Page 540
خطبات محمود ۵۴۰ سال ۱۹۳۹ء نسیت آخر تک شامل ہونے کی تھی اس لئے اسے نیت کا ثواب مل جائے گا۔بشرطیکہ جب تک وہ زندہ رہا شریک رہا ہو۔ہاں جس نے زندگی میں اپنی مرضی سے ناغہ کر دیا وہ اس میں شامل نہیں کی سمجھا جائے گا۔کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی نیت ہی اس میعاد کو پورا کرنے کی نہ تھی۔کی ہاں وہ شخص جو جب تک زندہ رہا ادا کرتا رہا۔اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے پورا کر دیا۔یا جن کی آمدنیوں میں کمی ہوئی اور وہ چندہ میں شرائط کے مطابق کمی کرتے رہے۔وہ بھی کی اس فہرست میں شمار ہوں گے۔مثلاً وہ لوگ جو ملا زمت سے پنشن پر آگئے اور انہوں نے آمد میں کمی کے ساتھ شرائط کے ماتحت چندہ میں کمی کر دی ان کی کمی کمی نہیں سمجھی جائے گی یا وہ لوگ بھی جن کے متعلق کوئی ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ وہ بوجھ اُٹھانے کے قابل ہی نہ رہے۔پہلے وہ چندے دیتے رہے مگر پھر ان کی مالی حالت ایسی خراب ہو گئی کہ وہ چندے دینے کے قابل نہ رہے۔ان کے متعلق تحقیقات کر کے فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں ہو گا۔جو لوگ ملازمت سے پنشن پر چلے گئے یا جن کی تجارت میں کمی واقع ہو گئی ان کی حالت تو ظاہر ہی ہے اور اگر وہ شرائط کی کے ماتحت چندے میں کمی کر دیں تو ان کی کمی کو کمی نہیں سمجھا جائے گا لیکن جو یہ کہیں کہ ان کی کی مالی حالت ایسی خراب ہو گئی کہ وہ حصہ لینے کے قابل ہی نہیں رہے ان کے متعلق تحقیقات کر کے فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں ہوگا۔اس کے علاوہ جو لوگ معافی لیتے ہیں وہ ادا کرنے والوں میں شامل نہیں سمجھے جا سکتے۔وہ تو صرف گناہ سے بچ سکتے ہیں۔جو لوگ قواعد کے مطابق چندہ دیتے ہیں ان کی بھی دو شقیں ہیں ایک تو وہ جو ہر سال بڑھاتے جاتے ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے چوتھے سال میں کمی کر دی مگر پھر اس میں برابر زیادتی کرتے جاتے ہیں۔یعنی بعض تو وہ ہیں جنہوں نے چوتھے سال میں کمی نہیں کی۔ان کا کی دوسرے سال کا چندہ پہلے سے بڑھ کر ، تیسرے کا دوسرے سے بڑھ کر اور چوتھے کا تیسرے سے بڑھ کر تھا اور پھر پانچویں کا چوتھے سے بڑھ کر تھا۔خود میں نے بھی چوتھے سال میں کمی نہیں کی مگر بعض وہ ہیں جنہوں نے چوتھے سال کمی کر دی کیونکہ میں نے اس کی اجازت دی تھی اور پھر پانچویں سال میں اس سے زیادہ چندہ دیا۔کیونکہ اس وقت میں نے مکمل سکیم کا اعلان کر دیا تھا اُن کی کمی کو کمی نہیں سمجھا جائے گا۔اگر چوتھے سال کے بعد پانچویں میں انہوں نے زیادتی کر دی ہوئی