خطبات محمود (جلد 20) — Page 541
خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۹ء اور پھر آئندہ ہر سال کچھ نہ کچھ زیادتی کرتے چلے جائیں یہ دونوں قسم کے لوگ سَابِقُون میں شمار ہوں گے۔جنگ اور اس سے پیدا شد ہ حالات اور خطرات کو ممکن ہے بعض لوگ چندوں میں کمی کا موجب قرار دے لیں مگر میرے نزدیک یہ کمی کا موجب نہیں بلکہ قر بانی میں اضافہ کا موجب ہونے چاہئیں کیونکہ جنگ ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کے آرام و آسائش کی کے سامان نا پائیدار ہیں۔دیکھو کس طرح آج کئی ممالک میں انسانی زندگی اور آرام و آسائش کی ایک انسان کی وجہ سے خطرہ میں پڑی ہوئی ہے۔انسانی زندگیوں کا اس طرح خاتمہ ہو رہا ہے جس طرح دانے بھونے جاتے ہیں، سمندروں میں جہاز غرق ہو رہے ہیں اور ان میں انسانی کی جانیں بے دریغ ضائع ہو رہی ہیں۔ابھی خشکی پر جنگ با قاعدہ شروع نہیں ہوئی۔خشکی پر جنگ کے وقت ایسے عظیم الشان لشکروں میں بعض دفعہ پانچ پانچ اور دس دس ہزار انسان روزانہ مرتے ہیں اور یہ نہایت مہیب نظارہ ہے۔بے شک بیماریوں میں بھی لوگ مرتے ہیں مگر ان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو ایسی حالت کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ہینگ لگتے ہیں لیکن جنگ میں ملک کے چیدہ نو جوان مارے جاتے ہیں اور ایسے جوان جن سے نسلیں چلتی ہیں گو یا ملک کے چمن کے چیدہ پھول مسلے جاتے ہیں اور صرف پتے اور ٹہنیاں لٹکتی ہوئی رہ جاتی ہیں۔غرض بیماری اور جنگ کی موت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔بیماری میں پچاس فیصدی ایسے انسان کرتے ہیں جو اپنی عمر گزار چکے ہوتے ہیں۔۳۵،۳۰ فیصدی عورتیں یا بچے ہوتے ہیں اور ۱۵ ،۲۰ فیصدی نوجوان بھی ہوتے ہیں مگر جنگ میں مارے جانے والے سو فیصدی جوان ہوتے ہیں اور ایسے جوان جن پر ملک کو ناز ہوتا ہے اور جو ملک اور قوم کی ترقی کا موجب ہونے والے ہوتے ہیں۔گویا جنگ میں ملک کی جان نکال کر اسے مسل دیا جاتا ہے اور یہ موت نہایت دردناک ہوتی ہے مگر پھر بھی دیکھو کس طرح لوگ اپنی جانیں جنگ میں قربان کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں۔مائیں کس طرح اپنے بیٹوں کو نکال کر باہر پھینک دیتی ہیں اور پھر جب وہ مارے جاتے ہیں تو بسا اوقات ان کو رونے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔جرمنی میں اب یہ قانون بنا دیا گیا ہے کہ