خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 539

خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۹ء سے بچ جائے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ثواب کا بھی مستحق ہو جائے گا۔ثواب تو قربانی کے نتیجہ میں کی ہی مل سکتا ہے۔ہاں اگر واقعی کسی ایسے شخص کے دل میں قربانی کا جذبہ ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ثواب کا مستحق ہو سکتا ہے لیکن ہماری فہرست میں وہ کسی طرح نہیں آ سکے گا۔تو یہ محض نفس کی کا دھوکا ہے کہ ہم وعدہ کر کے معافی لے لیں تو اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو جائے گا۔ایسے ایک شخص کا خط پڑھکر مجھے تو حیرت ہوئی۔اس نے لکھا کہ گزشتہ سال میں نے تھیں روپیہ کا وعدہ کیا تھا مگر وہ ادا نہیں کر سکا۔اس لئے وہ تو معاف کر دیں اور آئندہ سال کے لئے میں چونکہ جانتا نہیں کہ کس قد ر ادا کرنے کے قابل ہوسکوں گا اور کب ادا کر سکوں۔اس کی لئے آئندہ سال کے لئے میرا وعدہ دس ہزار کا لکھ لیں۔ایسا شخص جو جانتا ہے کہ میں جو وعدہ کر رہا ہوں اسے پورا نہیں کر سکوں گا اسے وعدہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے اور پھر وہ قر بانی کرنے والے مجاہدین کی فہرست میں شامل کیونکر ہو سکتا ہے؟ معافی کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ کی ایسا شخص وعدہ خلافی کے گناہ سے بچ جائے۔یہ کیونکر ہو گیا کہ وہ ثواب کا مستحق بھی ہو جائے اور کی جو شخص معافی لیتا ہے وہ یہ کس طرح فرض کر لیتا ہے کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور پھر وہ مجاہدین کی فہرست میں کیونکر آ سکتا ہے؟ فہرست میں تو وہی شخص آئے گا جو دس سالہ میعاد کو پورا کرے گا اور انہی لوگوں کے ثواب کو لمبا کرنے کی ہم کوئی صورت کریں گے تو اس فہرست میں وہی شامل ہوں گے جو شرائط کے ماتحت اس تحریک میں حصہ لیتے رہیں گے۔سوائے ان کے جو فوت ہو گئے اور جب تک زندہ رہے برا بر شرائط کے ماتحت حصہ لیتے رہے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَدُ پس ایسا شخص جو زندگی میں برابر کی حصہ لیتا رہا اور پھر فوت ہو گیا۔وہ آخر تک شامل سمجھا جائے گا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہی سمجھے جاتے ہیں ہے وہ ان کے برا بر ثواب پاتے ہیں جو زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ، روزے رکھتے ، جہاد کرتے یا ثواب کے کی دوسرے کام کرتے ہیں جو نیک کام وہ دُنیا میں کرتے تھے اس کا ثواب ان کو برابر ملتا رہتا ہے۔پس جو فوت ہو گئے ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں وہ دس سالہ میعاد میں شامل سمجھا جائے گا۔اس کی نیت کے مطابق اسے اجر ملے گا خواہ وہ ایک سال ہی دینے کے بعد فوت ہو گیا مگر چونکہ اس کی کی