خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۹ء مر چکا ہے اور اس کے دل میں دُکھ اور درد ہے اور وہ اپنے دُکھ اور درد کو دور کرنے کا ذریعہ یہی دیکھتی ہے کہ حج کر آئے شاید اسی طرح اس کے دل کو سکون نصیب ہو یا کوئی بڑھا ہے اُس کی بیوی مر چکی ہے اور اب اس کا دل بھی دُنیا سے سرد ہو چکا ہے۔وہ اُٹھتا ہے اور آخرت کا تو شہ جمع کرنے کی نیت سے حج کے لئے چل پڑتا ہے۔گویا ان کا حج حج نہیں ہوتا بلکہ ان کے زخمی دلوں کے لئے ایک مرہم ہوتی ہے۔وہ دُکھیا ہوتے ہیں، مصیبتوں اور غموں میں گرفتار ہوتے ہیں۔انہیں چین اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا وہ کہتے ہیں آؤ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد اور آپ کا آخری مقام جا کر دیکھ آئیں۔وہاں جا کر ہم دُعا کریں گے شاید اللہ تعالیٰ اسی طرح ہمارے دل کو تسلی دے دے اور یا پھر بعض لوگ صرف اس لئے حج کرتے ہیں کہ لوگوں میں وہ حاجی کہلا سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک قصہ سُنایا کرتے تھے۔فرماتے تھے ایک حاجی لوگوں کی دعوتیں کرنے کا بہت شوقین تھا مگر محض اپنے حج جتانے کے لئے چنانچہ جب وہ دستر خوان پر بیٹھتا تو نوکر کو آواز دیتا کہ ارے! جلدی وہ سلفچی ۵ لانا جو میں پہلے حج پر لایا تھا اور دیکھنا آفتابہ ہے وہ کی لا نا جو دوسرے حج پر میں لایا تھا اور دستر خوان یہ تم نے کیا بچھا دیاوہ دستر خواں لاؤ جو تیسرے حج پر میں لایا تھا۔اسی طرح وہ اپنے ساتھ آٹھ حج گنوا جاتا۔ایک دفعہ کسی نیک آدمی کی اس نے دعوت کی اور جب کھانا کھانے کے لئے بیٹھا تو اسی طرح اس نے اپنے حج گنا نے شروع کر دئیے۔وہ بزرگ سُن کر کہنے لگے میں کھانا تو بہر حال کھالوں گا۔آپ اپنے حج کیوں خراب کرتے ہیں۔تو ایک طبقہ ایسا ہے جو محض حاجی کہلانے کے لئے حج کرنے جاتا ہے۔ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے زخمی اور مجروح دلوں پر مرہم رکھنے کے لئے حج کرنے جاتا ہے۔ایک طبقہ ایسا ہے جو محبت اور خلوص سے حج کرنے جاتا ہے مگر حج اس پر فرض نہیں ہوتا۔اس کا حج چاہے ایک دفعہ ہو یا دو دفعہ بہر حال نفلی حج ہی ہوتا ہے کیونکہ حج اس پر فرض نہیں ہوتا۔ہاں اپنی اس محبت اور عشق کے جوش میں جو اسے خدا اور اس کے رسول سے ہوتا ہے مکہ مکرمہ کی طرف کھچا چلا جاتا ہے مگر چونکہ حج اس پر فرض نہیں ہوتا اس لئے اس کا حج نفلی حج ہی قرار پاتا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان پر زکوۃ فرض نہ ہو اور وہ اپنے مال میں سے زکوۃ نکال دے تو اس کی زکوۃ نفلی صدقہ و خیرات میں شمار ہو گی۔غرض بہت تھوڑا طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جن پر حج فرض ہوتا ہو اور وہ