خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 525

خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۹ء اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے حج کرنے جاتے ہوں۔حالانکہ جن پر حج کرنا فرض ہو اُن کے لئے کی ضروری ہے کہ وہ حج کرنے جائیں بلکہ اگر وہ فرضی حج ادا کرنے کے بعد نفل کے طور پر ایک اور حج کر کے اپنے حج کے رکن کو مکمل کر لیں تو یہ اور بھی اچھی بات ہے تا کہ فرض حج میں اگر کچھ کمی رہ گئی ہو تو نفلی حج سے وہ پوری ہو جائے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں نفلی عبادتوں کا مقام مقام شفاعت ہے۔شفع کے معنے جفت کے ہوتے ہیں اور جس قدر فرائض ہیں وہ بھی اکیلے انسان کے کام نہیں آ سکتے بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ نوافل کو ملایا جائے۔اکیلا فرض حج ایسی چیز نہیں جو انسان کو کامل فائدہ پہنچا سکے۔جب تک اس فرض حج کے ساتھ کسی نفلی حج کو بھی شامل نہ کیا جائے یہی حال اور فرائض کا ہے۔پس جس طرح شفاعت میں ایک جوڑا اور اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح فرائض کے ساتھ بھی جوڑ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ جوڑ نوافل سے ہوتا ہے۔پس نفلی عبادات شفاعت کا رنگ رکھتی ہیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری اُمت میں سے سب سے زیادہ میری شفاعت کا مستحق وہ شخص ہو گا جس نے سچے دل سے لَا إِلهَ إِلَّا الله کہا۔ملا اب جس نے سچے دل سے لَا اِلهَ إِلَّا اللہ کہا ہو گا وہ تو پہلے ہی نجات یافتہ ہوگا اس کے لئے کسی شفاعت کی ضرورت کیا ہو گی۔اس میں بھی درحقیقت اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان خواہ کس قدر خلوص کے ساتھ عبادات بجالائے پھر بھی کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے جس کے لئے شفاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔اصل میں کامل فرد جو اکیلا ہو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔باقی خواہ فرشتے ہوں ، خواہ انسان ہوں ، خواہ اعمال ہو، خواہ اعتقادات ہوں سب جوڑا کے محتاج ہیں۔لَا إِلهَ إِلَّا اللہ بے شک اپنی ذات میں انسان کو نجات دلانے والا ہے مگر پھر بھی کئی قسم کی کمی رہ جاتی ہے اور یہ کمی اسی وقت دُور ہو سکتی ہے جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اس کے ساتھ شامل ہو جائے بلکہ کلمہ طیبہ میں لَا إِلهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کے الفاظ کا اضافہ اسی شفاعت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ جب لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہہ دیا تو وہی کافی تھا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کی اس کے ساتھ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم