خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 523

خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۹ء بغیر سحری کھائے آٹھ پہرہ روزہ رکھ سکتا ہے۔کیونکہ وہ فرضی روزے ہیں مگر دوسرے ایام میں سحری کے بغیر نفلی روزے نہیں رکھنے چاہئیں۔اگر کوئی غریب ہے اور اُسے سحری کے وقت کچھ کھانے کو نہیں ملا تو یہ اور بات ہے لیکن اگر کھانا موجود ہو اور پھر وہ سحری کے وقت نہ کھائے تو یہ طریق نفلی روزں میں جائز نہیں۔(اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ صرف افطار پر کفایت کرے اور صبح شام کا کھانا کئی دن تک بند کئے رکھے۔) اسی طرح نمازیں ہیں۔نمازوں میں بھی نوافل کی طرف خاص طور پر توجہ رکھنی چاہئے۔چندے بھی بعض فرضی ہوتے ہیں اور بعض نفلی۔اس میں بھی جماعت کی توجہ نفلی چندوں کی طرف بہت کم ہے۔بعض تحریکیں ایسی ہوتی ہیں جو میری طرف سے ہوتی ہیں یا مرکز سلسلہ کے دوسرے اداروں کی طرف سے ہوتی ہیں۔اس قسم کی تحریکیں دراصل فرضی چندہ کی صورت رکھتی ہیں مگر یہ کہ کوئی غریب مسکین سامنے آ جائے اور اس کی مدد کے طور پر انسان کچھ دے دے یہ نفلی چندہ ہے جس میں حصہ لینا ضروری ہوتا ہے مگر میں نے دیکھا ہے جو فرضی چندے ہیں یا جن چندوں کی تحریک میری طرف سے یا دوسرے مرکزی اداروں کی طرف سے کی جاتی ہے ان میں تو ہماری جماعت کے دوست اچھا حصہ لے لیتے ہیں مگر ایسے چندے جو نفلی ہوتے ہیں مثلاً کوئی غریب اور دُکھیا سامنے آ گیا اور اس کی حاجت روائی کر دی۔اس میں بہت کچھ کمی ہے حالانکہ نفلی چندے بھی بہت کچھ انسان کی اصلاح کا موجب ہوتے ہیں۔اسی طرح حج کا فریضہ ہمارے ملک میں بہت کم لوگ ادا کرتے ہیں اور جو حج پر جاتے ہیں وہ زیادہ تر ایسے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں جس پر حج فرض نہیں ہوتا۔گویا جن پر حج فرض نہیں وہ تو حج کرنے چلے جاتے ہیں اور جن پر حج فرض ہے ان میں سے بہت کم حج کرنے جاتے ہیں۔حالانکہ ہمارے ملک میں سات کروڑ مسلمان ہیں اور ان سات کروڑ مسلمانوں میں سے سات آٹھ لاکھ آدمی ہمیشہ ایسا ہوتا ہے جس پر حج فرض ہوتا ہے مگر حج پر جانے والے بیس پچیس ہزار سے زیادہ نہیں ہوتے اور ان میں سے بھی اکثر وہ ہوتے ہیں جن پر حج فرض نہیں ہوتا۔وہ یا تو غریب اور مسکین ہوتے ہیں یا وہ مصیبت زدہ ہوتے ہیں جن کو اپنے چین اور اطمینان کا اور کوئی ذریعہ نہیں ملتا اور وہ کی چاہتے ہیں کہ حج کر کے ہی اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا لیں۔مثلاً ایک غریب بیوہ ہے، خاوند اس کا کی