خطبات محمود (جلد 20) — Page 188
خطبات محمود ۱۸۸ سال ۱۹۳۹ء اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو جواب طلبی کے لئے کی اُن کو بُلا یا۔وہ کہتے ہیں کہ پہلے میرے نفس نے مجھے دھوکا دینا چاہا اور میں نے خیال کیا کہ کوئی بہانہ بنا دوں مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو اُن لوگوں سے جو پہلے سے وہاں موجود تھے دریافت کیا کہ مجھ سے پہلے کن کن لوگوں کی جواب طلبی ہو چکی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ فلاں فلاں کی۔اُنہوں نے پوچھا کہ پھر اُن سے کیا سلوک ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے دو کو تو ٹھہرالیا اور فرمایا ہے کہ تمہارا فیصلہ بعد میں ہو گا اور باقیوں کے لئے ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے۔وہ صحابی کہتے ہیں کہ جن کو ٹھہرایا گیا تھا وہ مومن تھے اور جن سے فرمایا کہ جاؤ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے وہ منافق تھے۔اس پر میں نے کہا کہ خواہ کوئی سزا ملے میں اپنے آپ کو منافقوں میں شامل نہیں کروں گا۔اس لئے میں نے جا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اقرار کر لیا کہ میرا قصور کی ہے اور مجھ سے سستی ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بھی فرمایا کہ ٹھہر و تمہارا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔پھر آپ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ کوئی شخص ان سے کلام نہ کرے۔پھر کچھ دنوں کے بعد اس حکم کو اور بھی سخت کر دیا اور فرمایا کہ ان کی بیویاں بھی اِن سے کلام نہ کریں اور ظاہر ہے کہ ایک ایسے شہر میں جہاں مسلمان ہی مسلمان بستے تھے یہ سزا کتنی بڑی سزا تھی۔مدینہ میں یہودی بھی تھے مگر اُن کی بستیاں مدینہ سے کچھ فاصلہ پر الگ تھیں۔یہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک رشتہ دار کے پاس گیا جو میرا چیرا بھائی تھا اور ہماری کی باہمی محبت بہت زیادہ تھی حتی کہ کھانا بھی اکٹھا ہی کھایا کرتے تھے۔میں اُن کے پاس گیا وہ باغ کی میں کام کر رہے تھے۔میں وہاں گیا اور جا کر کہا کہ مجھے جو سزا ملی ہے وہ تو ملی ہی ہے مگر تم یہ تو می جانتے ہی ہو کہ میں منافق نہیں ہوں اور جو کچھ ہوا ہے غلطی سے ہؤا ہے لیکن بجائے اس کے کہ وہ مجھے کوئی جواب دیتا اُس نے آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتا ہے۔یہ دیکھ کر مجھ پر ایک جنون کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور میں وہاں سے چلا آیا۔دروازہ کی طرف جانے کا بھی خیال نہ رہا اور دیوار سے گود کر ہی باہر آ گیا اور شہر کی طرف آیا۔ابھی شہر میں داخل ہو رہا تھا کہ ایک شخص نے کسی اجنبی کو میری طرف اشارہ کر کے بتایا وہ اجنبی میرے پاس آیا اور کی