خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 189

خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۳۹ء مجھے ایک خط دیا۔میں نے کھولا تو وہ غسان قبیلہ کے بادشاہ کا تھا اور اُس میں لکھا تھا کہ تم اپنی قوم کے بڑے معزز آدمی ہو اور میں نے سُنا ہے کہ تمہارے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کی تمہارے ساتھ بُرا سلوک کیا ہے اور بے عزتی کی ہے۔دراصل وہ شریفوں سے سلوک کرنا جانتے ہی نہیں تم میرے پاس آ جاؤ اور یہاں تمہاری شان کے مطابق تم سے سلوک کیا جائے کی گا۔میں نے اپنے نفس سے کہا کہ یہ شیطان کی طرف سے آخری امتحان ہے۔پاس ایک تنور جل رہا تھا میں نے وہ خط اُس میں ڈال دیا اور اُس سے کہا کہ جا کر اپنے آقا سے کہہ دینا کہ تمہارے خط کا یہ جواب ہے۔ان کی شاید یہی ادا اللہ تعالیٰ کو پسند آ گئی ، رات کو سوئے ، سویرے اُٹھے، نماز پڑھنے گئے اور پڑھ کر واپس آگئے۔ان سے کوئی بولتا تو تھا نہیں اس لئے نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الہام ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی سزا معاف کر دی۔فجر کی نماز کے بعد آپ بیٹھ گئے اور ان تین سزا یافتوں کے متعلق کی دریافت فرمایا کہ کیا وہ موجود ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ فلاں ہے اور فلاں نہیں۔آپ نے فرمایا کہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان تینوں کو اس نے معاف کر دیا۔یہ سنتے ہی ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف دوڑ پڑا کہ خوشخبری سنائے مگر ایک اور زیادہ ہوشیار نکلا۔پاس ہی ایک ٹیلہ تھا اُس نے اُس پر چڑھ کر زور سے آواز دی کہ مالک تم کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔سے ان کی غلطی منافقت کی وجہ سے نہ تھی اس لئے تو بہ بھی ایسی کی کہ کہا مجھ سے یہ غلطی مال کی زیادتی کی وجہ سے ہوئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے گا۔میں اپنا سارا مال اس کی راہ میں دے دوں گا اور اس دیانت کے ساتھ اس وعدہ کو نباہا کہ جب معافی کی آواز آئی تو آپ نے کہا کہ میں یہ خوشخبری سنانے والے کو کپڑوں کا ایک جوڑا تحفہ کے طور پر دوں گا۔جیسا کہ ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ منہ میٹھا کراؤں گا مگر بعد میں خیال آیا کہ میں نے تو سارا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔اِس لئے اِسے کپڑوں کا جوڑا کسی دوست کی سے قرض لے کر دیا اور کہا کہ میں دوبارہ کما کر یہ قرض ادا کر دوں گا لیکن اپنے سابق مال میں سے نہ دیا کیونکہ وہ سب کا سب خدا تعالیٰ کی راہ میں دے چکے تھے۔تو ان کو یہ سزا محض اس لئے برداشت کرنی پڑی کہ اُنہوں نے خیال کر لیا کہ میں کل چلا جاؤں گا۔اگر وہ پہلے ہی دن چلے جاتے کی ہ