خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 187

خطبات محمود ۱۸۷ سال ۱۹۳۹ء نہ بنا سکے تھے لیکن اب اس تحریک کے ذریعہ مکان بنانے کے قابل ہو گئے ہیں۔تو چندوں کی کی ادائیگی میں آسانیوں کے علاوہ اس کے اور بھی فوائد تھے لیکن دوستوں نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی اور خیال کر لیا کہ وقت پر کچھ نہ کچھ انتظام ہو ہی جائے گا اور خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر دے گا لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بھی انہی کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد کرتے ہیں۔جو تلعب کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کی مدد کبھی نہیں کرتا۔پس میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ غلط وعدے نہ کیا کریں اور دوسرے آج کا کام کل پر کبھی نہ چھوڑا کریں۔یہ نہایت ہی خطر ناک بات ہے۔بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ کل کر دیں گے مگر وہ کل کبھی نہیں آتا اور چندہ کی ادا ہی نہیں ہوتا۔ابھی پچھلے سال کے وعدوں میں سے بارہ ہزار کے قریب قابل ادا ہیں۔حالانکہ مارچ ختم ہوچکا ہے اور اپریل شروع ہے اور یہ بقایا معافیوں کو نکال کر ہے۔نیز ان وعدوں کو نکال کر جن کے کرنے والے فوت ہو چکے ہیں۔ورنہ یہ رقم بہت بڑھ جاتی ہے۔جس رفتار سے اب گزشتہ سال کے وعدے پورے ہو رہے ہیں اس سے تو دو تین سال میں بھی یہ بقایا پورا ہونا مشکل ہے۔آجکل گزشتہ بقایا کی آمد دس پندرہ روپیہ روزانہ کی ہے اور کسی دن کچھ بھی نہیں ہوتی۔اس حساب سے یہ وعدے دو تین سال میں بھی پورے ہونے مشکل ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ آخر میں ادا کر دیں گے حالانکہ بقایا ہمیشہ ان لوگوں کے ذمہ ہی کی رہتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ آخر میں دے دیں گے۔میں نے یہ واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ سُنایا ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ پر جانے کا اعلان فرمایا تو ایک صحابی نے کی جو مالدار تھے خیال کیا کہ میں مالدار ہوں تیاری جب چاہوں گا کرلوں گا۔آخر کوچ کا دن آ گیا اور اُنہوں نے دیکھا کہ سامان تیار نہیں تو پھر دل کو تسلی دے لی کہ میں کل تیاری کر کے جاملوں گا مگر دوسرے دن اور مشکل پیش آ گئی اور بات تیسرے دن پر جا پڑی۔تیسرے دن تیار ہو ا تو ادھر آنے والے قافلوں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی منزلوں کا کوچ کی کرتے ہوئے دور تک نکل گئے ہیں اور اب آپ سے ملنا ناممکن ہے اور وہ سفر سے رہ گئے اور اس وجہ سے وہ اس سزا کے مستحق ہوئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں غیر معمولی تھی۔یعنی ان کا مقاطعہ ہوا۔حتی کہ ان کی بیوی کو بھی ان سے کلام کرنے کی ممانعت کر دی گئی۔