خطبات محمود (جلد 20) — Page 480
خطبات محمود ۴۸۰ سال ۱۹۳۹ء اِنّ الّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآن تَرَادُكَ إلى مَعَادٍ ، 14 یعنی ہمیں اپنی ذات ہی کی کی قسم وہ جس نے تجھ پر قرآن کے احکام فرض کئے ہیں ایک دن پھر تجھے اس مرجع عالم مقام یعنی مکہ کی طرف واپس لے آئے گا۔سورہ قصص مکتی ہے پس اس آیت میں اوّل ہجرت اور پھر مکہ میں کامیاب داخلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اسی طرح سورہ بلد میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا أقسم بهذا البلدِن وَانتَ حِلٌّ بِهذا البلد کا یعنی کفار اپنے وعدوں میں جھوٹے ہیں اور اس کے ثبوت میں ہم شہادت کو پیش کرتے ہیں مکہ شہر کو اس حالت میں کہ تو پھر اس شہر میں کامیاب طور پر داخل ہو گا۔ان آیات سے ہجرت اور پھر دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ ثابت ہے اور اس کے سوا اور کوئی آیات اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں۔کتب سابقہ میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے۔چنانچہ یسعیاہ باب ۲۱ میں لکھا ہے ” عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرا میں تم رات کو کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشندو روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو۔کیونکہ وے تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک کی برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیرا اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے باقی لوگ گھٹ جائیں کے ہ خدا وند اسرائیلی کے خدا نے یوں فرمایا ۱۸۰ اس پیشگوئی میں ہجرت اور جنگ بدر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔اوّل تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں جانے کی خبر دی گئی ہے اور پھر بتایا ہے کہ اس کے ایک سال بعد آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے درمیان جنگ ہوگی جس میں دشمن شکست کھا ئیں گے اور بھاگ نکلیں گے اور وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے بھاگ جانے کا الزام لگاتے تھے اپنے لاؤلشکر کی موجودگی میں پیٹھ دکھائیں گے اور پھر اس حال میں کہ کمانڈر اور ان کے جرنیلوں کی لاشیں میدانِ جنگ میں پڑی رہ جائیں گی اور آخر وادی مکہ اپنے جرنیلوں کو کھو کر اپنی اس شوکت کو کھو بیٹھے گی جو اُس سے پہلے اسے حاصل تھی۔اسی طرح تو رات میں یہ پیشگوئی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے جا کر پھر فاتحانہ مکہ میں داخل ہوں گے۔چنانچہ