خطبات محمود (جلد 20) — Page 479
خطبات محمود ۴۷۹ سال ۱۹۳۹ء ނ ہی رہتے اور اگر قتل کر دیتے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں کہیں بھی نہ ہوتے نہ مکہ میں ہوتے نہ کہیں اور بلکہ آپ فوت ہو چکے ہوتے۔البتہ تیسری صورت یہ تھی کہ وہ آپ کو مکہ۔نکال دیں اور آپ کو مجبور ہو کر کسی اور جگہ جانا پڑے۔اس صورت میں بیشک اہل مکہ پر وہ عذاب آ سکتا تھا جس کا آنا اس وقت مقدر تھا جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن میں موجود نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ ہماری بعض پیشگوئیوں میں یہ خبر آ چکی تھی کہ لوگ تجھے اپنے وطن سے نکال دیں گے اس لئے قید اور قتل والی تدبیریں ہمارے مقصد کو حل نہیں کرتی تھیں۔بلکہ اخراج والی صورت ہی ایسی تھی جس سے ہماری پیشگوئی پوری ہو سکتی تھی۔اگر وہ قتل کر دیتے تو سلسلہ ہی تباہ ہو جاتا اور وہ غرض فوت ہو جاتی جس کے لئے ہم نے تجھ کو مبعوث فرمایا تھا اور اگر تجھ کو قید کر دیتے تو بھی تو مکہ میں ہی رہتا مکہ سے باہر نہ جاتا صرف ایک ہی صورت تھی جس سے ہماری پیشگوئی پوری ہو سکتی تھی اور وہ یہ کہ وہ تجھے یہاں سے نکال دیتے۔چنانچہ فرمایا کی ويَمْكُرُونَ ويمكر الله وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر دیں یا یہاں سے نکال دیں اور خدا کی تدبیریں انہیں اس طرف چلا رہی تھیں کہ پہلی دو باتوں کے لئے ان کی کوششیں ناکام رہیں لیکن آخری صورت پر جو اخراج والی ہے وہ عمل کریں وَ الله خَيْرُ الْمَاكِرِينَ اور آخر خدا کی تدبیر ہی غالب آئی اور انہیں اس بات کی توفیق نہ ملی کہ وہ آپ کو قتل کر دیں اور نہ انہیں اس بات کی توفیق ملی کہ وہ آپ کو قتل کر دیں۔گو یہ دونوں باتیں ان کے لئے زیادہ آسان تھیں بلکہ ان کی تمام کوششوں کا نتیجہ آخری امر نکلا یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلنے پر مجبور ہو گئے اور آپ کے مکہ سے نکلنے پر کفار خوش ہو گئے کہ چلو اچھا ہو ا مصیبت ٹل گئی اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔اُنہوں نے سوچا کہ ہم چاہتے تھے کہ اسے قید کر دیں مگر ایسا نہ کر سکے۔پھر ہم چاہتے تھے کہ اسے قتل کر دیں مگر ایسا بھی نہ کر سکے۔پھر ہم چاہتے تھے کہ اسے اپنے شہر سے باہر نکال دیں تا اِس کا اثر ہمارے نوجوانوں پر نہ پڑے اور باہر سے آنے والے حاجی اس کے اثر کو قبول نہ کریں اور ہم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ان کی خوشی باطل ہے اور یہ کہ در حقیقت انہوں نے خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے سامان پیدا کئے ہیں قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے کی