خطبات محمود (جلد 20) — Page 481
خطبات محمود ۴۸۱ سال ۱۹۳۹ء استثناء باب ۳۳ میں لکھا ہے ” فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہو ا دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔19 فاران کے پہاڑ مکہ کے گرد کے پہاڑ ہیں اور فاران کی وادی مکہ کی وادی ہے۔پس اس پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے داہنے ہاتھ میں آتشی شریعت ہو گی۔آتشی شریعت سے مراد دلوں کو صاف کرنے والی شریعت بھی ہوسکتی ہے اور موقع کے مناسب اس کے معنے تلوار کے بھی ہو سکتے ہیں کہ جب کی مکہ والے قرآن کی حکومت کو جو رحمت کا پیغام تھا قبول نہ کریں گے بلکہ اسے مٹانے کی کوشش کریں گے تو پھر اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آتشی شریعت یعنی تلوار دے گا اور آخر مکہ کے لوگ تلوار کے آگے اپنے سر جھکا دیں گے۔ان پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے نکل جانے کے بعد مکہ والوں پر یہ عذاب آنا تھا کہ ان کی حکومت جاتی رہنی تھی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں نے مارا جانا تھا۔میرے نزدیک ما كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُم و انت فيهم ، میں اسی عذاب کی طرف اشارہ ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار محمد رسول اللہ کو نکال کر خوش تھے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملکہ سے نکال کر نعوذ باللہ ذلیل کر دیا مگر در حقیقت انہوں نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری ہے اور اپنے لئے عذاب کا راستہ کھول دیا ہے۔چنانچہ اس کا پہلا ظہورا بو جہل کی بددعا سے جسے اس آیت سے پہلے نقل کیا گیا ہے اور پھر اُس کے پورا ہونے سے ہوا ہے اور بقیہ ظہور بعد میں ہوں گے۔بائیبل میں جو پیشگوئی ہے اس میں بھی بھاگنے والے کے الفاظ ہیں اور بھا گا وہیں سے جاتا ہے جہاں لوگ ظلم و ستم کر رہے ہوں اور امن و آرام کے ساتھ رہنے نہ دیتے ہوں۔اسی طرح رگ وید میں بھی یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ دو بھاگنے والے بھاگیں گے اور خدا ان کی حفاظت کرے کی گا۔جس سے مرا د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔پس یہ پیشگوئی کی متعدد کتابوں میں پائی جاتی تھی کہ ایک عظیم الشان نبی آئے گا بلکہ تو رات میں تو عرب کا نام بھی لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ نبی عرب میں آئے گا پھر اُس کے شہر کے لوگ اس پر ظلم کریں گے اور اسے وہاں سے بھاگنا پڑے گا۔۲۰