خطبات محمود (جلد 20) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال ۱۹۳۹ء یہی جواب دیا کہ یہ تبلیغی جلسہ ہے اس لئے ہم اسے نہیں روک سکتے لیکن جب وہ منعقد ہوا تو مقامی افسروں کے اپنے رویہ سے معلوم ہو گیا کہ وہ اسے تبلیغی جلسہ قرار نہیں دیتے تھے۔اس لئے کہ سرکاری افسروں نے ہم سے اقرار لیا کہ احمدی اس جلسہ میں نہ جائیں اور یہ ظاہر ہے کہ قادیان میں اب قریباً نوے فیصدی جماعت احمدیہ کے افراد ہی آباد ہیں اور جس جگہ ایک جماعت کی کثرت ہو وہاں تبلیغ کی غرض صرف یہی ہو سکتی ہے کہ دوسرے کو اپنے خیالات پیش کر کے اپنا ہم خیال بنایا جائے لیکن جن لوگوں کو جلسہ کرنے والے تبلیغ کر سکتے تھے ان کو افسروں نے وہاں جانے سے روک دیا۔پس اس جلسہ کو تبلیغی جلسہ قرار دینا محض عناد اور ضد تھا۔اس معاملہ میں اتنا تعہد کیا گیا کہ ستکو ہا کا ایک احمدی جو راستہ پر سے گزر کر اپنے گاؤں کو جارہا تھا اُسے پولیس کے آدمی گرفتار کر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس لے گئے کہ یہ احمدی اس رستہ سے گزر رہا تھا جس کے قریب احرار جلسہ کر رہے ہیں۔حالانکہ رستوں پر گزرنا کوئی مجرم نہیں خصوصاً جن کا رستہ وہی ہو۔پھر اس جلسہ کے دوران میں اس قدرسختی کی گئی کہ حکم دے دیا گیا کی کہ احمدی اپنا لٹریچر ان دنوں میں تقسیم نہ کریں اور اسے اس انتہا ء تک پہنچایا گیا کہ ایک تھانیدار نے خود پہرہ داروں کے داروغہ کو بھیج کر بعض ٹریکٹ منگوائے چونکہ کہا گیا تھا کہ پولیس مانگتی ہے اس نے دے دیئے جس پر وہ ٹریکٹ سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کئے گئے کہ دیکھئے یہ ٹریکٹ احمدی تقسیم کرتے ہیں اور جب ان کو اصل حقیقت بتائی گئی تو ا سے سُن کر بھی اُنہوں نے یہ کہا کہ خواہ پولیس والے مانگنے آئے تھے انہیں یہ ٹریکٹ نہیں دینے چاہئیں تھے۔اس کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے مقدمہ چلایا گیا اور اس بارہ میں حکومت کو جو رویہ اختیار کرنا پڑا اس سے بھی ثابت ہو گیا کہ ان کے نزدیک یہ جلسہ تبلیغی نہیں تھا بلکہ محض فتنہ وفساد کی غرض سے تھا مگر اس کے انعقاد سے قبل گورنمنٹ کی طرف سے ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا کہ یہ تبلیغی جلسہ ہے ہم اسے کس طرح روک سکتے ہیں لیکن بعد میں سر ایمرسن گورنر پنجاب خود مان گئے کہ یہ تبلیغی جلسہ نہیں تھا اور کہ آئندہ ایسا جلسہ نہیں ہوگا۔گویا گورنمنٹ کے نقطہ نگاہ سے سب سے بڑا افسر یعنی گورنر خود اقرار کر چُکا ہے کہ یہ جلسہ تبلیغی نہیں تھا اور کہ آئندہ ایسا جلسہ قادیان میں ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اب اگر باوجود اس اقرار کے ایسا جلسہ ہو تو اس سے سمجھا جائے گا کہ گورنمنٹ برطانیہ