خطبات محمود (جلد 20) — Page 252
خطبات محمود ۲۵۲ سال ۱۹۳۹ء کے کسی بڑے سے بڑے افسر کی زبان کا بھی کوئی اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔کہا جاسکتا ہے کہ سرایمرسن آئندہ کے لئے کوئی وعدہ نہیں کر سکتے تھے لیکن یہ سوال تو ہر گورنر کے متعلق ہوسکتا ہے۔موجودہ گورنر بھی آئندہ کے لئے کوئی وعدہ نہیں کر سکتے اور ان کے بعد آنے والا بھی اگر اس عذر کو درست تسلیم کیا جائے تو آئندہ کسی کو سرکاری حکام سے بات چیت کرتے وقت یقین نہیں ہوسکتا کہ وہ جو بات کر رہا ہے اُس کا کوئی مفید نتیجہ نکلے گا اور لوگ گورنر جیسے جلیل القدر عہدہ پر فائز حاکم کے متعلق بھی مجبور ہوں گے کہ ان کے وعدہ کو بھی تسلیم نہ کریں کیونکہ خوف ہوگا کہ دوسرا گورنر بلا حالات کی تبدیلی کے پہلے گورنر کی بات کو رڈ کر دے گا۔پس اگر اس جلسہ کی اجازت دے دی گئی تو ہم جن کے ساتھ یہ گفتگوئیں ہوئیں مجبور ہوں گے یہ کہنے پر کہ پنجاب میں گورنمنٹ برطانیہ کے سب سے بڑے نما ئندہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا اُسے موجودہ گورنمنٹ نے توڑ دیا ہے۔دوسرا نقطہ نگاہ جو ہے وہ تبلیغی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ جلسہ تبلیغ کے لئے کیا گیا جیسا کہ احراری اعلان کرتے ہیں۔اگر یہ واقعی تبلیغی ہے تو پھر اس میں شمولیت سے ہمیں نہیں روکا جاسکتا۔یہ عجیب دوغلی بات ہے کہ ایک طرف تو کہتے ہیں احمدی یہاں نہ آئیں اور دوسری طرف یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم نے قادیان کو فتح کر لیا ہے جن کو مرعوب کرنے یا تبلیغ کرنے کے لئے یہاں جلسہ کیا جاتا ہے ان کو تو روک دیا جاتا ہے کہ وہاں نہ جائیں اور پھر ظاہر یہ کیا جاتا تج ہے کہ احمدی مقابلہ پر نہیں آئے۔ایسی صورت میں یہ ہرگز جائز نہیں ہوگا کہ ہمیں شمولیت سے روکا جائے اور پھر اگر کوئی ہمیں چیلنج دے تو ہر گز کسی کا حق نہیں ہو گا کہ ہمیں اس کے قبول کرنے سے رو کے۔اگر کوئی لیکچرار ہمیں کوئی چیلنج دے گا تو ہمارا حق ہو گا کہ کھڑے ہو کر اسے قبول کر لیں اور اس کا جواب دیں۔اگر گورنمنٹ اِس میں دخل دے گی اور ہمیں روکے گی تو آج کی اپنی طاقت سے وہ بے شک ہمیں روک دے لیکن تاریخ ضرور اس بات کو محفوظ کرے گی کہ اس کی زمانہ کے افسر دیانت دار نہیں تھے اور حکومت کا نظام صحیح طور پر چلانے والے نہیں تھے۔کمزور کو زور سے چُپ کرالینا اور بات ہے مگر انصاف اور ہے۔اس کی ایک دلچسپ مثال ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ایک بھیڑ یا کسی نالے پر پانی پی رہا تھا اور کچھ فاصلہ پر کوئی بکری بھی پانی پی رہی تھی۔