خطبات محمود (جلد 20) — Page 599
خطبات محمود ۵۹۹ سال ۱۹۳۹ء اور جو کمالات انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کئے تو یہ ٹھیک ہے لیکن اگر تمام کمالات اللہ تعالیٰ کی نسبت سے ہیں اور اس کے یہ معنے لئے جائیں کہ اب یہ معاملہ ختم ہے اور مزید کسی ترقی کی گنجائش نہیں تو یہ غلط ہے۔جتنے فضل آپ پر نازل ہوئے ہیں وہ ان سب سے زیادہ ہیں جو آپ سے پہلوں پر ہوئے یا پچھلوں پر ہوں گے اور اگر اس نسبت سے کہا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کمالات حاصل تھے تو یہ ٹھیک ہے۔کیونکہ جو کمالات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل ہوئے ، حضرت نوح علیہ السلام کو حاصل ہوئے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حاصل ہوئے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو حاصل ہوئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حاصل ہوئے۔اسی طرح دوسرے ملکوں کے نبیوں کو جن کے نام قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں یا نہیں ہوئے جو کمالات حاصل ہوئے وہ آپ کو بھی حاصل ہیں اور نہ صرف انبیاء کے کمالات بلکہ دوسرے لوگ بھی جن کو کوئی نہ کوئی ایسا کمال حاصل تھا جو کسی نہ کسی کی رنگ میں مذہب پر اثر انداز ہوتا ہے۔وہ خواہ آپ سے پہلے ہوئے ہیں یا بعد میں پیدا ہوں گے ان کے سب کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں بلکہ آپ کے بعد آنے والوں کو جو کمال بھی حاصل ہو گا ظنی طور پر حاصل ہو سکے گا۔یہ ہمارا عقیدہ ہے اور اگر کوئی اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی پر غور ہی کی نہیں کیا لیکن اگر تمام کمالات کے معنے یہ لئے جائیں کہ خدا تعالیٰ کے قُرب کی تمام راہیں اپنی کچ انتہاء تک آپ کو حاصل ہو گئیں اور اب کوئی اور راہ باقی نہیں اور نہ کوئی اور درجہ باقی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہو سکتا ہو تو یہ بالکل غلط بات ہے اور یہ جواب الفاظ میں میری طرف سے ”الفضل میں شائع ہوا تھا۔پہلے بھی یہ مضمون میں نے کئی بار بیان کیا ہے لیکن انسان کو جس سے محبت ہو اُس کے متعلق ظاہری شان و شوکت کے الفاظ کے استعمال پر وہ بڑا حریص اور دلیر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو محبت ہے اس کے ماتحت وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا لفظ آپ کے متعلق نہ بولا جائے جس سے معلوم ہو کہ آپ کے لئے ابھی کوئی مقام طے کرنا باقی ہے۔اس لئے مسلمانوں میں سے جولوگ عارف نہیں ہیں ان کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم