خطبات محمود (جلد 20) — Page 598
خطبات محمود ۵۹۸ ۳۷ سال ۱۹۳۹ء تمام کمالات انسانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور ان میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے (فرموده ۲۲ / دسمبر ۱۹۳۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا جو سوال و جواب غالباً الفضل “ میں شائع ہو چکے ہیں اُس وقت اختصار کے ساتھ میں نے اس سوال کا جواب دے کی دیا تھا۔آج جس وقت میں خطبہ کے لئے کھڑا ہوا تو اذان سنتے ہی میرا ذہن اس سوال اور اس کے ایک اور جواب کی طرف چلا گیا جو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سوال کا دیا ہے اور میں نے سوچا کہ آج اسی سوال کے جواب کو خطبہ کے ذریعہ سے اس روشنی میں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سند سے حاصل ہوئی ہے بیان کر دوں۔یہ سوال غالباً میرے کسی خطبہ کی بناء پر کیا گیا تھا جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے اور سوال یہ تھا کہ آپ بتائیں کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام کے تمام کمالات اس دُنیا میں حاصل نہیں کر چکے تھے ؟ غالباً میرا کوئی مضمون یا خطبہ کسی ایسے موضوع کے متعلق تھا کہ جس سے سائل کو یہ شبہ پیدا ہوا کہ شاید میرے نزد یک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کمالات حاصل نہ تھے۔میں نے جو جواب دیا اُس کا مفہوم یہ تھا کہ اگر تو تمام کمالات سے مراد یہ ہے کہ جو ترقیات کوئی انسان حاصل کر سکتا ہے