خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 600

خطبات محمود ۶۰۰ سال ۱۹۳۹ء نے جومراتب حاصل کئے ہیں ان سے آگے بھی ابھی مدارج باقی ہیں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ کسی ترقی کرنے والی چیز کا کسی مقام پر جا کر رک جانا اس کے تنزل کی دلیل ہو ا کرتی ہے۔پھر اس امر کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان خواہ کتنی بلند ہو اور آپ سے ہمیں خواہ کتنی محبت ہو اللہ تعالیٰ کی شان بہر حال آپ کی شان سے بہت بالا ہے۔خدا تعالی ازلی ابدی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے فیضانوں میں سے ایک بہت بڑا فیضان ہیں اور یہ آپ کی ذات سے دشمنی ہو گی کہ ہم آپ کو کوئی ایسا مقام دے گی دیں جس کے دینے سے خدا تعالیٰ کا مقام چھٹتا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس شان کو کبھی پسند نہیں کر سکتے بلکہ ایسا خیال کرنے والے کو اپنا بدخواہ سمجھیں گے۔آپ کا اپنا عمل اس بات پر شاہد ناطق ہے۔آپ نہایت زبر دست قوتوں کے مالک تھے اور آپ کو ایسے ایسے کاموں کی توفیق ملی جو بڑے بڑے قومی انسان بھی نہیں کر سکتے اور جس کے قومی زیادہ مضبوط کی ہوں اسے جان کنی کی تکلیف زیادہ ہو ا کرتی ہے۔اس لئے آپ کو یہ تکلیف بہت زیادہ تھی۔کی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں پہلے یہ سمجھا کرتی تھی کہ جسے جان کنی کی تکلیف زیادہ ہو وہ اچھا آدمی نہیں ہوتا مگر جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو اپنی رائے بدلنی پڑی۔اس انتہائی تکلیف کے وقت بھی آپ کو اللہ تعالیٰ کے مقام کا اتنا خیال تھا کہ آپ چونکہ جانتے تھے کہ میرے اتباع کو مجھ سے اتنا عشق ہے کہ ممکن ہے میرے مرتبہ کے متعلق غلو سے کام لیں اس لئے اس تکلیف کے وقت میں بار بار آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے تھے کہ خدا تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا آپ بار بار یہی فرماتے تھے لے گویا اپنی قوم کو آخری سبق جو آپ نے دیا وہ یہی تھا کہ مجھے کوئی مشر کا نہ مقام نہ کی دینا اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ خیال مت کرنا کہ میں اس سے خوش ہوں گا بلکہ میری روح ایسا کرنے والوں پر لعنت کرے گی۔پس خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہوں آپ کی طرف ایسا مقام منسوب کرنا جو اللہ تعالیٰ کے درجہ کی تنقیص کا موجب ہو آپ کے لئے خوشی کا موجب نہیں بلکہ ایسا کرنے والے پر آپ کی لعنت ہوتی ہے اور موت کے وقت کی لعنت تو بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔جو لوگ بچے مذہب کے پیرو نہیں مثلاً ہندو وغیرہ قومیں وہ بھی کی