خطبات محمود (جلد 20) — Page 584
خطبات محمود ۵۸۴ سال ۱۹۳۹ء چنانچہ بعض نے تو نماز پڑھ لی اور بعض نے نہ پڑھی۔یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اُن لوگوں کا ذکر ہوا جنہوں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی تو آپ نے فرمایا اُنہوں نے ٹھیک کیا تو جہاد کی ضرورت کو مقدم رکھ لیا گیا اور نماز کو دوسرے وقت پر ڈال دیا گیا۔ایک اور وقت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسا آیا کہ آپ کو چار نمازیں جمع کرنی پڑیں۔حالانکہ عام قاعدہ کے ماتحت چار نمازیں جمع ہو ہی نہیں سکتیں مگر اس دن ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ ختم ہونے میں ہی نہ آئی اور سارا دن گزر گیا حتی کہ ایک کی ایک رکعت پڑھنے کا بھی موقع نہ ملا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت پر یہ امر بہت ہی گراں گزرا اور آپ نے فرمایا خدا ان کفار کا بُرا کرے کہ آج اُنہوں نے ہماری نمازیں خراب کر دیں کے تو جہاد کے لئے نماز کو دوسرے وقت پر ڈال دینا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے ثابت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد میں سخت مصروف ہونے کی وجہ سے ظہر کی نماز نہیں پڑھی، عصر کی نماز پڑھی، مغرب کی نماز نہیں پڑھی ہاں عشاء کے کی وقت سب کو جمع کر لیا۔حالانکہ عام حالات میں چار نمازیں جمع نہیں ہوسکتیں۔یہی صحابہ کا طریق عمل تھا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا۔چنانچہ اُنہوں نے شام کے وقت عصر کی نماز پڑھی۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہمارے پاس آکر نماز عصر پڑھنا اور ان صحابہؓ نے بھی عہد کر لیا کہ ہم عصر پڑھیں گے تو وہیں پہنچ کر ، پہلے نہیں پڑھیں گے۔مگر جہاد اتنے اہم فریضہ کے متعلق بھی شریعت نے یہ اجازت دے دی کہ لولے لنگڑے اور اپاہج اگر اس میں شامل نہ ہوں تو اُن پر کوئی الزام نہیں۔یہاں تک کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاد کے لئے تشریف لے گئے۔صحابہ جو آپ کے ساتھ تھے اُنہوں نے بڑی بڑی تکالیف اُٹھا ئیں۔راستہ میں وہ کہیں گٹھلیاں کھاتے ، کہیں پتے کھا کر گزارہ کرتے۔اسی دوران میں وہ ایک وادی پُر خار میں سے گزرے۔اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے پاؤں سے خون بہہ رہا تھا ، ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ سخت تکلیف کی کی حالت میں جار ہے تھے مگر اُن کے دل اس تکلیف کے ساتھ یہ فخر بھی محسوس کر رہے تھے کہ انہیں خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنے کا موقع ملا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف