خطبات محمود (جلد 20) — Page 585
خطبات محمود ۵۸۵ سال ۱۹۳۹ء دیکھا اور فرمایا مدینہ میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس وادی میں سے بھی گزرتے ہو تی اور تکلیفیں اُٹھا اُٹھا کر ثواب حاصل کرتے ہو وہ مدینہ میں بیٹھے ہوئے لوگ تمہارے اس ثواب کی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا کہ قربانیاں ہم کریں ، تکلیفیں ہم اُٹھا ئیں اور ثواب میں وہ ہمارے شریک ہو جائیں۔آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔یہ وہ معذوراندھے لولے اور لنگڑے ہیں جو اس لئے جہاد میں شامل نہیں ہوئے کہ انہیں جہاد میں شامل ہونے کا شوق نہیں تھا بلکہ اس لئے وہ محروم رہے کہ وہ جہاد میں اپنی معذوری کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکتے تھے۔پس وہ گھر بیٹھے دُکھ اُٹھا رہے ہیں اور اس تصور سے غم زدہ ہورہے ہیں کہ کیوں وہ جہاد میں شریک ہونے سے محروم رہے اور یہی غم ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور اُسی ثواب کا مستحق بنا رہا ہے جو تم کو حاصل ہوا۔2 تو جس قدرا ہم سے اہم احکام شریعت ہیں ان تمام میں اللہ تعالیٰ نے سہولت رکھی ہے جب تک کسی انسان کے اندر طاقت رہتی ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کی کرےاور جب طاقت ختم ہو جائے تو اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں رہتی جب اہم احکام شرعیہ کا یہ حال ہے تو جو چندہ پہلے ہی لازمی نہ ہو اور جس میں حصہ لینا انسان کے اپنے اختیار کی بات ہو اس میں اگر کوئی شخص حصہ لیتے لیتے کسی وقت ایسی مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے کہ وہ آئندہ کے لئے اپنی شمولیت کو جاری نہیں رکھ سکتا تو اس کا حق ہے کہ وہ اپنا نام کٹوا لے اور گناہ سے بچ ج جائے۔کیونکہ اس تحریک میں شمولیت بھی اختیاری ہے اور اس میں سے نکلنا بھی اختیاری ہے۔ہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم دوستوں کو تحریک کرتے رہیں کہ وہ اس میں حصہ لیں۔جیسے نوافل پڑھنے واجب نہیں مگر یہ تو نہیں کہ ہم دوسروں کو نوافل کی ادائیگی کی تحریک کرنی چھوڑ دیتے ہیں۔ہمارا کام یہی ہے کہ ہم تحریک کرتے رہیں تا کہ جو چست ہیں وہ ثواب حاصل کر لیں۔پس اس بارہ میں میرا تحریک کرنا یا دفتر والوں کا تحریک کرنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ہم لوگوں کو مجبوری کرتے ہیں۔ہم کسی کو اس میں حصہ لینے کے لئے مجبور نہیں کرتے۔ہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم لوگوں کو تحریک کرتے رہیں جو لوگ ہماری تحریک پر اس میں حصہ لیں گے انہیں تو اب مل جائے گا اور جو حصہ نہیں لیں گے اُن پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔