خطبات محمود (جلد 20) — Page 535
خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۹ء جتنی زیادہ کی جائے بہتر ہے۔اسی طرح کپاس کی کاشت کو محدود کرنے کا قانون پاس کیا گیا اور امریکہ نے اس کی کاشت ۷۵ فیصدی کر دی اور اسی طرح دوسرے ممالک نے بھی کمی کی۔تو کی کسی چیز کو بڑھانا یا گھٹانا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور اس کا قانون یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اس کے بیج کو بڑھا دیتا ہے۔جب وہ ایک بیج ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں اس سے سینکڑوں کیسے بنیں گے اور جب سینکڑوں ہو جائیں تو کہتے ہیں اس سے ہزاروں کیونکر ہوں گے۔پھر ہزاروں سے لاکھوں ، لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں تک بڑھنے میں شک کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اسی طرح بڑھاتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو دنیا حیران تھی اور کہتی تھی کہ ایک سے دو کس طرح ہوں گے؟ کوئی دوسرا شخص ایسا نہیں ہو گا جو ان عقائد کو مان جائے لیکن جب چند لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے تو دُنیا نے کہا کہ چالیس پچاس پاگل تو دنیا میں ہو سکتے ہیں مگر یہ آخری حد ہے اس سے زیادہ نہیں بڑھ سکتے اور جب یہ تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی تو کہا جانے لگا کہ دُنیا میں پاگلوں کے علاوہ بعض احمق بھی ہوتے ہیں جو شریک ہو گئے ہیں مگر ساری دُنیا تو عظمندی کو نہیں چھوڑ سکتی کی اب اُن کی تعداد نہیں بڑھ سکتی اور جب جماعت ہزاروں تک پہنچ گئی تو کہا گیا کہ بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی دھوکا کھا سکتے ہیں مگر اب یہ لوگ لاکھوں تک نہیں پہنچ سکتے اور اب حیران ہیں کہ یہ کروڑوں کس طرح ہوں گے اور یہ نہیں سوچتے کہ جس طرح ایک سے دسیوں، دسیوں سے سینکڑوں سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں ہوئے اسی طرح اب لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو کر ان کو اسی طرح بڑھاتا جائے گا اور کون ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل کو روک سکے۔اسی طرح اس تحریک کی بنیاد بھی آج چند ہزار روپوں پر ہے جو چندہ آتا ہے اس میں سے اخراجات کو نکال کر جو روپیہ بچتا ہے موجودہ اندازہ کے مطابق اس سے اسی قدر مستقل فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے کہ جس سے ساٹھ ستر ہزار روپیہ سالانہ کی آمد ہو سکے اور یہ اس کے لئے کافی ہے کہ اس وقت جومشن ہمارے مد نظر ہیں یعنی جن کے لئے اس وقت مجاہدین ٹرینینگ لے رہے ہیں انہیں قائم کیا جا سکے۔یہ زیادہ سے زیادہ ۲۵ ،۳۰ نئے مشن ہوں گے اور اگر دیکھا جائے تو یہ