خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 534

خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۹ء تو ایک بیج بھی سارے ملک میں پھیل سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب کسی کو بڑھانے لگتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ بیج کتنا تھوڑا اور چھوٹا ہے۔آج ہماری جماعت بہت تھوڑی اور کمزور ہے۔حتی کہ جماعت کے بعض کمزور لوگ بھی حیران ہیں کہ یہ کس طرح ساری دُنیا کو فتح کرے گی مگر سوال یہ ہے کہ کونسی چیز ایسی ہے جو ابتدا میں بڑی کوشش سے شروع ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے کیا سارے انسان ایک ہی دن میں پیدا کر دیئے تھے ؟ نہیں بلکہ پہلے اس نے آدم کو پیدا کیا اس وقت جب خدا تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اگر کوئی اور مخلوق ہوتی اور خدا تعالیٰ فرماتا کہ اس نے آدم کو اس لئے پیدا کیا کہ دُنیا کو انسانوں سے بھر دیا جائے تو وہ مخلوق ہنستی اور کہتی کہ یہ کیا پا گلا نہ خیال ہے لیکن آج یہ حالت ہے کہ دُنیا میں آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ماہرین اقتصادیات اب اس امر پر بحثیں کرتے ہیں کہ لوگ کھائیں گے کہاں سے۔آدم کی پیدائش کے وقت یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ نسل انسانی اس قدر پھیل جائے گی مگر اب یہ حال ہے کہ ۲۰، ۲۵ سال کی بات ہے کہ ماہرین اقتصادیات کی طرف سے ایک شور بپا تھا کہ زمین بہت کم ہے اور کھانے والے زیادہ کی ہیں۔اب کیا انتظام ہو گا ؟ انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آدمیوں کو بڑھانے کا انتظام کیا ہے اسی طرح وہ خوراک کو بڑھانے کا انتظام بھی کر دے گا اور ہر جاندار کا رزق اس کے ذمہ ہے۔کوئی دابہ ایسا نہیں جس کا رزق خدا تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو۔انہوں نے کی روزی مہیا کرنے کا کام اپنا سمجھ لیا۔گویا خدائی اب خدا تعالیٰ نے ان کے سپر د کر دی ہے۔آخر ملک میں زراعت کی جدوجہد شروع ہوئی اور ۱۹۲۹ ء میں اس قدر غلہ دُنیا میں پیدا ہوا اور اس قدر ارزاں ہو گیا کہ پھر لوگ اس امر کو سوچنے لگے کہ زمیندار گزارہ کس طرح کریں گے؟ گزشتہ جنگ میں گندم کا نرخ آٹھ روپیہ من تک بڑھ گیا تھا مگر ۱۹۲۹ء میں چار اور دو من تک گر گیا اور کپاس کا نرخ جہاں ۲۷ روپے من تک تھا چار، پانچ رو پید رہ گیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا کر دیا اور ان کو بتا دیا کہ ہم غلہ کو اتنا بڑھا سکتے ہیں کہ لوگ حیران رہ جائیں کہ اب اسے بچیں گے کہاں؟ چنانچہ اس کے بعد کئی کمیٹیاں بیٹھیں کہ اس امر پر غور کریں کہ کاشت محدود کر دی جائے۔چنانچہ ربڑ کی کاشت کے لئے مختلف ممالک نے رقبے معتین کر دیئے اور فیصلہ کیا گیا کہ اس سے زیادہ کاشت نہ کی جائے۔حالانکہ اس سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ربڑ کی کاشت کی۔