خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 536

خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۹ء کچھ بھی نہیں۔اس جدو جہد کے مقابلہ میں جو اس وقت عیسائی کر رہے ہیں۔اس وقت ۶۵ ہزار عیسائی مبلغ دُنیا کے مختلف حصوں میں کام کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کے مقابلہ میں ہمارے ۲۵ ،۳۰ مبلغوں سے کیا بنے گا ؟ مگر ہمیں امید ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ضرور ترقی دے گا اور جس طرح خدا تعالیٰ نے اتنا مستقل فنڈ قائم کرنے کا سامان کر دیا ہے جبکہ پہلے ایک روپیہ بھی اس فنڈ میں نہ تھا تو اسے اس کو اور بڑھانے سے کون روک سکتا ہے۔وہ ضرور اُسے کسی وقت لاکھوں ، کروڑوں بلکہ اربوں تک ترقی دے گا اور ایک وقت آئے گا کہ ہمارا تبلیغی فنڈ دُنیا کی بڑی بڑی کی حکومتوں کے خزانوں سے بھی زیادہ ہو گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ احمدیت کو اتنی ترقی دے گا کہ ساری دُنیا کی اقوام مل کر بھی اس کے مقابلہ میں ادنیٰ اقوام کی حیثیت رکھیں گی۔اسی طرح وہ اس کے فنڈوں کو دُنیا کی حکومتوں کے خزانوں سے زیادہ مضبوط بنا دے گا اور وہ اسے ضرور بڑھائے گا۔میسیج محمدی کو مسیح ناصری سے ہر لحاظ سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔مسیح ناصری کی قوم نے اپنے انتہائی کمال کے وقت ۶۵ ہزار مبلغ پیدا کئے ہیں مگر احمدیت انشاء اللہ تعالیٰ اپنی ترقی کے زمانہ میں ۶۵ لاکھ پیش کرے گی اور یہ ضروری بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علماء ہوں کیونکہ علماء کا کام صرف غیروں میں تبلیغ نہیں ہوتا بلکہ ان کا کام تعلیم و تربیت بھی ہے اور حقیقی تعلیم و تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ چند سو آدمیوں پر ایک عالم ضرور مقرر ہو۔جب تک ہر ڈیڑھ دوسو آدمیوں پر ایک نہ ہو صحیح تربیت نہیں ہو سکتی۔جب کوئی قوم بڑھتی ہے اور افراد کی تربیت کا انتظام نہیں ہوتا تو وہ گرنے لگتی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں فلاں جماعت میں فلاں وقت اخلاص زیادہ تھا۔اب ویسا نہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس وقت جماعت کم تھی یا کسی جگہ کوئی خاص آدمی تھا وہ چلا گیا تو ان کی تربیت کا ویسا انتظام نہ رہا۔پہلے ایک مبلغ ایک علاقہ میں جاتا تھا وہاں کی چند آدمی ہوتے اور وہ ان کی تربیت کے لئے زیادہ کوشش کر سکتا مگر اب ہر علاقہ میں جماعتیں بڑھ گئی ہیں اس لئے تربیت میں نقص رہ جاتے ہیں اور یوں بھی جس رنگ میں ہم نے مبلغ پیدا کرنے کی اب تک کوشش کی ہے اس سے تربیت صحیح رہ بھی نہیں سکتی تھی۔صحیح رنگ وہی تھا جو اب میں نے تحریک جدید میں اختیار کیا ہے یعنی ایسے مبلغ ہوں جو بغیر روپے اور معاوضہ کے کام کریں اور سلسلہ پر بوجھ نہ ہوں۔یہ کوشش خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہورہی ہے۔گو بوجہ اس کے