خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 357

خطبات محمود ۳۵۷ سال ۱۹۳۹ء بہت سے حقوق دے دیئے ہیں۔ہندوستانی بھی حقوق طلبی کر رہے ہیں۔اس وقت انارکسٹوں کی اور انگریزوں میں ایک دوڑ جاری ہے اگر تو اس وقت سے پہلے کہ ہندوستانیوں کے دلوں میں انگریزوں کی طرف سے نفرت پیدا ہو جائے۔ہندوستان کو آزادی مل گئی تو آزادی کے بعد بھی ہندوستان انگریزوں کا دوست رہے گا لیکن اگر یہ وقت آنے سے پہلے انارکسٹوں نے غلبہ حاصل کر لیا تو آزادی ملے گی تو پھر بھی مگر اس صورت میں دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں کی رہیں گے۔بہر حال اب ہندوستان کا قدم آزادی کی طرف ہی اُٹھے گا۔سو سال کی حکومت کی بڑی لمبی حکومت ہے اور یہ پرانے زمانہ کی ہزار سال کی حکومت کے برابر ہے۔اب اگر ہندوستان کی حکومت میں کوئی تغیر ہو گا تو ہندوستان کی بہتری کے لئے ہی ہوگا اور اسے حقوق ملتے جائیں گے لیکن اگر یہ حکومت بدل جائے تو جونئی قوم آئے گی وہ پہلے تو کچھ عرصہ اس نشہ میں رہے گی کہ ہم نے یہ ملک فتح کیا ہے پھر کچھ عرصہ اس غصہ میں رہے گی کہ اس ملک نے ہم سے لڑائی کی تھی اور اس طرح پہلے تھیں چالیس سال تک وہ خوب جونک کی طرح خون چوسے گی اور کی کہے گی کہ اچھا اب تمہاری خبر خوب لیتے ہیں اور تمہیں بتاتے ہیں کہ انگریزوں سے مل کر ہمارے کی ساتھ لڑائی کرنے کا انجام کیا ہے اس کے جو مر دلڑائیوں میں مارے جائیں گے ان کی عورتیں اور دوسرے رشتہ داروں کے دلوں میں چونکہ غصہ ہوگا اس لئے وہ اپنی قوم کو خوب بھڑ کا ئیں گے کی کہ ہندوستانیوں کو پیس دو۔اُنہوں نے کیوں ہم سے لڑائی کی اور وہ یہ خیال بھی نہیں کریں گی گے کہ یہ بے چارے تو ماتحت تھے ان کا کیا اختیار تھا بلکہ یہی کہیں گے کہ انہوں نے کیوں انگریزوں کا ساتھ دیا ؟ وہ ہندوستان کی مجبوریوں کا کوئی خیال نہیں رکھیں گے اور ان کے اس غصہ کی وجہ سے ہندوستان پر جو تباہی اور بربادی نازل ہو گی اس کا تصور کر کے بھی ایک عقلمند کانپ اُٹھتا ہے اور میں تو حیران ہوں کہ کانگرس کے لیڈر یہ کس طرح سوچ رہے ہیں کہ انگریزوں سے تعاون کریں یا نہ کریں۔حالات تو ایسے ہیں کہ وہ خواہ انگریزوں کو اچھا سمجھیں اور خواہ بدترین خیال کریں دونوں صورتوں میں ان کے لئے تعاون کرنا ضروری ہے۔اگر ہندوستان ان سے تعاون نہیں کرے گا تو خطر ناک مصائب میں گرفتار ہو جائے گا اور نسلوں تک اسے رونا پڑے گا۔