خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 358

خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۹ء تو اس وقت بہر حال ہندوستان بھی خطرہ کے مقام پر ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان صاحب اقتدار لوگوں کو سمجھ نہ دے جولڑائی کراسکتے یا اسے روک سکتے ہیں۔ہمارے لئے سخت مشکلات در پیش ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ لڑائی کی ذمہ داری کس پر ہے۔ہٹلر پر ہے یا پولینڈ پر یا انگریزوں پر۔ہم بہت دور بیٹھے ہیں اور اصل حالات ہم تک نہیں پہنچتے لیکن جہاں تک پہنچتے ہیں ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انگریز اور ان کے حلیف حق پر ہیں۔اصل حالات اور واقعات کی تاریخ بعد میں بیان کرے گی لیکن جب تک وہ ظاہر نہ ہوں ہر قوم کا یہ حق ہے کہ اس کے متعلق حسن ظنی سے کام لیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی ہدایت فرمائی ہے کہ حُسنِ ظنی سے کام لینا چاہئے۔ایک شخص کے متعلق جب ایک صحابی نے بدظنی سے کام لیا تو آپ نے اُسے یہی فرمایا کہ هَلْ شَقَقْتَ قَلْبَهُ لے کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا ہے؟ تو ہر قوم کے متعلق پہلا حق یہی ہے کہ اس کے متعلق حسنِ ظنی سے کام لیا جائے لیکن جو کچھ تجربہ ہوا ہے اس نے جرمنی اور اٹلی کے متعلق حسن ظنی کا حق ہمارے دلوں سے اُڑا دیا ہے۔اٹلی نے جو کچھ البانیہ کی کے ساتھ کیا یا جرمنی نے چیکوسلواکیہ سے کیا اُسے دیکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ انگریزوں کی بات کی پر ان کی نسبت زیادہ اعتبار کریں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جو قوم ایک بار غلطی کرے ضروری نہیں کہ وہ دوسری بار بھی غلطی کرے۔اس لئے ہم کوئی قطعی رائے تا حال ظاہر نہیں کر سکتے مگر اب بھی یہی اُمید رکھتے ہیں کہ شائد اللہ تعالیٰ ان کے دل میں رحم پیدا کر دے اور وہ ایسا طریق اختیار کر لیں کہ امن قائم رہے اور یا انگریزوں کے دل میں ایسی کیفیت پیدا کر دے کہ وہ ایسا رویہ اختیار کریں جس سے انصاف بھی قائم رہے اور امن بھی لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی ہو کہ لڑائی ہو تو ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ اس کی مضرتوں سے بالخصوص ہمیں بچائے اور ان لوگوں کو بھی جن کا وجود دینی و دنیوی لحاظ سے مفید ہو۔یہ تو خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ بم برسیں ، گولیاں چلیں اور نقصان بالکل نہ ہو اور کوئی آدمی بھی نہ کرے مگر نقصان بھی ایک نسبتی امر ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شدید بم باری کی وجہ سے بھی کم سے کم نقصان ہو یا زیادہ نقصان بدکاروں کا ہو۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت ہماری اس دُعا کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو کہ جنگ ٹل جائے تو یہ ضرور ہو کہ شدید نقصان شریروں کو زیادہ پہنچے۔آجکل مادیات کا زور ہونے