خطبات محمود (جلد 20) — Page 356
خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۹ء اور ہر عقلمند انسان بلکہ کمزور عقل کا انسان بھی اگر سوچ سمجھ سے کام لے تو تسلیم کرے گا کہ ہر تازہ دم حکومت زیادہ ظلم کرتی ہے۔انگریزوں کو خواہ کوئی کتنا بُرا کہے اگر چہ میرا خیال یہی ہے کہ گوان کے اندر ایمان والی دیانت تو نہیں مگر یورپ کی کوئی اور قوم ایسی نہیں جو ان کی طرح رعایا کا خیال رکھتی ہو۔بیشک وہ بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اپنے فائدہ کے لئے یہاں حکومت کرتے ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ انگریز یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہندوستان کی خدمت کریں وہ میرے نزدیک احمق ہے یا جھوٹا ہے مگر پھر بھی جو دوسرے غیر ملکوں میں اپنے فائدہ کے لئے کی گئے ہیں ان سب سے انگریز بہتر ہیں۔دوسری قو میں محکوموں کی اگر کھال اُتارتی ہیں تو یہ کہتے ہی ہیں کہ کھال رہنے دو۔وہ اگر لباس اُتروا لیتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ نگا نہ کرو۔دوسری اگر روزی چھین لیتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ان کو بھی کھانے دو۔اگر یورپ کا اقتدار ایک بلا ہے تو انگریز ادنی درجہ کی بلا ہیں۔اگر دوسری قوموں میں سے انتخاب کرنا پڑے تو میں کہوں گا کہ اگر عقلمند ہو تو انگریزوں کو منتخب کرو۔امریکہ کی نسبت تو میں کہہ نہیں سکتا کیونکہ وہ بہت دُور ہے اور ہمیں اس کا پورا تجربہ کرنے کا کی موقع نہیں ملا۔اس کے سوا باقی سب ممالک یعنی فرانس ، پرتگال ، اٹلی وغیرہ سے انگریزوں کا سلوک محکوموں سے زیادہ اچھا ہے۔وہ ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ ممکن ہوتا ہے کہ کچھ مدت کے بعد ان کے محکوم آزادی کی طرف قدم اُٹھا سکیں لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ انگریز بُرے ہیں تب بھی کو ئی عقلمند یہ خواہش نہیں کر سکتا کہ ان کی حکومت بدل جائے جب کوئی حکومت لمبی ہو جاتی کی ہے تو طبعا اس میں کمزوری آجاتی ہے۔ان کو ہندوستان پر حکومت کرتے ہوئے سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب ان کی حکومت کا وہ رنگ نہیں رہا جو پہلے تھا۔وہ اب زیادہ عرصہ تک پرانے طریق پر حکومت نہیں کر سکتے اور مجبور ہیں کہ ۶۰،۵۰ سال کے بعد ہندوستان کو آزادی دے دیں۔یہ ایک لمبی اور علمی بحث ہے اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالنے کا یہ وقت نہیں لیکن کی تاریخ سے یہی پتہ لگتا ہے کہ جب کوئی قوم کسی ملک کو فتح کرتی ہے تو یا تو وہ اسی میں آباد ہو کر اس کا حصہ بن جاتی ہے یا پھر کچھ عرصہ بعد اپنی حکومت کھو بیٹھتی ہے یا اس ملک کو آزاد کر دیتی ہے۔انگریز سو سال سے اس ملک پر حکومت کر رہے ہیں اور اب ہندوستانیوں کو انہوں نے