خطبات محمود (جلد 20) — Page 312
خطبات محمود ۳۱۲ سال ۱۹۳۹ء ہماری جماعت کو یہ عادت ترک کرنی چاہئے کہ جب تک خلیفہ کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا اُسے وہ نہیں کرے گی۔خلیفہ کا کام صرف توجہ دلانا اور نگرانی کرنا ہے آگے جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ کاموں کو اپنے ہاتھ میں لے اور اس مضبوطی اور استقلال سے ان کو چلائے کہ پھر ان کو کی چھوڑے نہیں۔پس جماعت کے دوستوں کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنی چاہئے اور اس دن کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے جب کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں وسعت برکات حاصل ہوگی اور ایک ایک کام کے لئے ہمیں ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہوگی جو دن رات ان کاموں پر لگے رہیں۔تم آج ہی ان اہم ذمہ داریوں کے کاموں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو اور اس بات کا انتظار نہ کیا کرو کہ ہر کام کے کرنے کا تمہیں خلیفہ کی طرف سے حکم ملے۔یہ محض نمائش ہے کہ جب تک تمہارا سردار جس کی تم نے بیعت کی ہوئی ہے تمہیں توجہ دلاتا رہتا ہے تم کام کرتے رہتے ہو اور جب اس کی توجہ کسی اور کام کی طرف مبذول ہو جاتی ہے تو تم کام سے غافل ہو جاتے ہو۔یہ ایک خطر ناک مرض ہے جس کو دور کرنے کی طرف ہماری جماعت کو توجہ کرنی چاہئے اور اس زمانہ میں جو عظیم الشان تغیرات کا حامل ہے بجائے زبانی باتوں کے عملی کام کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔تم اس بات کی کبھی پرواہ نہ کیا کرو کہ اگر ہم میں سے چند لوگ نکل گئے تو کیا ہوگا؟ عملی جد و جہد کو تیز کرنے اور تنظیم کو برقرار رکھنے کے لئے ایک دو نہیں اگر ہزاروں کو بھی جماعت سے نکالنا پڑے تو تم کبھی مغموم نہ ہو بلکہ خوش ہو کہ خدا نے ایک گندے عضو کو کاٹ کر الگ کر دیا۔تم نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی ڈاکٹر کسی کے پھوڑے کو چیرے اور اس میں سے پیپ نکالے اور مریض ناراض ہو۔وہ ناراض نہیں بلکہ خوش ہوتا اور ڈاکٹر کو فیس دیتا اور ہمیشہ اس کا ممنونِ احسان رہتا ہے۔پس استقلال اور ہمت سے کام کرو اور سستی اور غفلت سے بچو۔دُنیا میں عظیم الشان تغیرات کے دن قریب آ رہے ہیں۔پس اس دن کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرو اور کوشش کرو کہ جس دن دُنیا اپنے حصے بانٹنے کی کوشش میں ہو گی تم اس دن سب سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لے کر لوٹو - اللهم امین ( الفضل ۲ اگست ۱۹۳۹ ء ) اٹیکرا: ڈھیر۔انبار البقرة : ٢٧