خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 313

خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۹ء انسان کی قلیل زندگی اور عظیم الشان ذمہ داری (فرموده ۱۴ / جولائی ۱۹۳۹ ء لوئر دھرم ساله) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اللہ تعالیٰ کے قانون میں ہمیں ہر جگہ ایک بیداری نظر آتی ہے صرف انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جس میں سستی اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس پر اگر ہوشیار بھی ہوتا ہے تو دورے آتے رہتے ہیں۔اس کے خلاف ہم دیکھتے ہیں چاند ہے، سورج ہے،ستارے ہیں ، درخت ہیں، پودے ہیں، جھاڑیاں ہیں ان چیزوں کے کاموں میں یا اور ہزاروں اور لاکھوں چیزیں ہیں، ان کے کاموں میں کبھی غفلت نہیں آتی۔انسان کی زندگی دنیا کے مقابلہ میں کتنی حقیر ہے دنیا کی کی پیدائش کا اندازہ اربوں سال کا لگایا گیا ہے۔اربوں سال کے مقابل انسان کی ساٹھ ستر سال کی زندگی کیا حقیقت رکھتی ہے بلکہ ہمارے ملک میں تو ستائیس سال کی اوسط نکلتی ہے بعض ملکوں میں چالیس ہے اور بعض میں پینتالیس ہے۔اربوں سال کے مقابلہ میں ساٹھ ستر کیا چیز ہے پھر کی بچپن کی عمر ایک چوتھائی کے قریب اس میں سے نکل جاتی ہے اور ایک تہائی حصہ عمر کا سونے میں گزر جاتا ہے پھر چھ سات سال کھانے پینے وغیرہ حوائج میں نکل گئے۔گویا بڑی سے بڑی عمر پانے والوں کو تمیں سال کا عرصہ کام والا ملتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ گورنمنٹ پچپن سال پر پنشن ے دیتی ہے تو اس کے بعد کی عمر تو گنی نہیں چاہئے۔گویا بچھپیں سال اور نکل گئے اور عمر کے کام کرنے والے حصہ سے بھی دس سال نکل کر کام کا عرصہ پندرہ بیس سال کا رہ گیا مگر اس میں