خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 311

خطبات محمود ۳۱۱ سال ۱۹۳۹ء کوئی بھی نسبت ہے؟ اور پھر یہ کتنی بے استقلالی کی بات ہے کہ ایک وقت تو نیشنل لیگ کے قادیان میں چھ سو ممبر ہوں اور دوسرے وقت صرف چھیالیس ممبر رہ جائیں۔حالانکہ دوسری قوموں میں آجکل یہ تحریکیں بڑھ رہی اور زور پکڑ رہی ہیں۔خاکسار آج سے چند سال پہلے صرف دو ہزار ہوا کرتے تھے مگر اب تمیں چالیس ہزار کے قریب ہیں مگر ہماری نیشنل لیگ کے ممبر چھ سو سے چھیالیس رہ گئے۔یہ کتنی خطرناک بات ہے اور اس کی موجودگی میں ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ کہ ہم ایک زندہ جماعت ہیں۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ اگر نیشنل لیگ کے پہلے چھ سو ممبر تھے تو اب اس کے ممبر چھ ہزار یا بارہ ہزار ہوتے۔اس کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ قائم ہوئی۔وہ اب تک اچھا کام کر رہی ہے مگر اس کی زندگی ابھی بہت تھوڑی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں اس کا کیا حال ہوگا۔میں نے دیکھا ہے لوگوں میں یہ ایک مرض پیدا ہو گیا ہے کہ جس کام پر خلیفہ کا حج ہاتھ رہتا ہے اس کام کی طرف وہ خوب توجہ کرتے رہتے ہیں مگر جو نہی خلیفہ اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے لوگوں کا جوش بھی سرد پڑ جاتا ہے اور ان پر غفلت طاری ہو جاتی ہے حالانکہ خلافت کا وجو د تو خدا تعالیٰ نے بطور محور رکھا ہے۔اب کون سا وہ خلیفہ ہوسکتا ہے جو ہر کام کرے۔ابھی تو ہماری جماعت بہت قلیل ہے مگر جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرے گی کاموں میں بھی زیادتی ہوتی چلی جائے گی۔ابھی تو ہمارے پاس نہ حکومت ہے، نہ تجارت ہے، نہ یونیورسٹیاں ہیں، نہ علمی ادارے ہیں اور نہ کوئی اور چیز ہے مگر جب یہ تمام چیزیں آ گئیں تو اس وقت ہمارے کام کا دائرہ اتنا وسیع ہو جائے گا کہ ہمیں ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے لائق آدمیوں کی ضرورت ہوگی جن کا یہ فرض ہو گا کہ وہ دن رات اپنے کاموں میں مشغول رہیں۔اگر وہ خود کام نہیں کریں گے اور اپنا فرض صرف یہی سمجھیں گے کہ جس کام کی طرف خلیفہ توجہ دلاتا ر ہے اسے کرتے رہیں کی اور جس کام کی طرف وہ توجہ دلانا چھوڑ دے اسے ترک کر دیں تو جماعت کی ترقی کس طرح کی ہوگی ؟ پس ضروری ہے کہ جماعت میں ابھی سے بیداری پیدا ہو اور وہ یہ غور کرنے کی عادت ڈالے کہ جو کام وہ کر رہی ہے وہ اچھا ہے یا نہیں اور جب اسے معلوم ہو کہ وہ اچھا ہے اور خلیفہ نے بھی ایک آدھ دفعہ اس کی طرف توجہ دلا دی ہے تو پھر وہ اس کام کو چھوڑے نہیں بلکہ مستقل طور پر اسے اپنی زندگی کے پروگرام میں شامل کر لے کیونکہ اس کے بغیر ترقی ہونا ناممکن ہے۔پس ج