خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 71

خطبات محمود ۷۱ سال ۱۹۳۹ ء ہوتے ہیں ۔ اگر تو وہ نماز ہی نہیں پڑھتے تو دُہرے مجرم ہیں ۔ نہیں تو یہی مجرم کافی ہے، فحش گالیاں ماں بہن کی وہ بکتے ہیں اور کسی شریف آدمی کو خیال نہیں آتا کہ اُن کو روکے ۔ مسجد مبارک کے سامنے کھیلنے والے بچے ۹۵،۹۰ فیصدی احمدیوں کے بچے ہی ہو سکتے ہیں ۔ تھوڑے سے غیروں کے بھی ہوتے ہوں گے مگر میں نے اپنے کانوں سے سُنا ہے احمدیوں کے بچے گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور اُن کے ماں باپ اور اسا تذہ کو احساس تک نہیں ہوتا کہ اُن کی اصلاح کریں ۔ پھر میں نے دیکھا ہے مدرسہ احمدیہ کے طلباء گلیوں میں سے گزرتے ہیں تو گاتے جاتے ہیں ۔ حالانکہ یہ وقار کے سخت خلاف ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ شرم و حیا جو دین کا حصہ ہے بالکل جاتی رہی ہے۔ پھر میں نے دیکھا ہے نو جوان ایک دوسرے کی گردن میں با ہیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ سب باتیں وقار کے خلاف ہیں ۔ مجھے یاد ہے میرا ایک دوست تھا بچپن میں ایک دفعہ ہم دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے تھے کہ حضرت خلیفہ اول نے دیکھا۔ میری تو آپ بہت عزت کیا کرتے تھے اس لئے مجھے تو کچھ نہ کہا لیکن اُس کو اس قدر ڈانٹا کہ مجھے بھی سبق حاصل ہو گیا ۔ ہمارے ملک میں کہتے ہیں کہ دتی اے نی میں تینوں کہاں تو ایس نی توں گن رکھے۔ یعنی بات تو میں اپنی لڑکی سے کہتی ہوں مگر بہو اسے غور سے سُنے ۔ اسی طرح حضرت خلیفہ اول نے اُسے ڈانٹا مگر مجھے بھی سبق ہو گیا کہ یہ بری بات ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ نوجوانوں کو اسلامی آداب سکھانے کی طرف توجہ ہی نہیں کی جاتی ۔ نوجوان بے تکلفانہ ایک دوسرے کی گردن میں بانہیں ڈالے پھر رہے ہوتے ہیں حتی کہ میرے سامنے بھی ایسا کرنے میں انہیں کوئی باک نہیں ہوتا ۔ کیونکہ اُن کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ کوئی بُری بات ہے۔ اِن کے ماں باپ اور اساتذہ نے ان کی اصلاح کی طرف کبھی کوئی توجہ ہی نہیں کی ۔ حالانکہ یہ چیزیں انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں کی بچپن میں تربیت کا اب تک مجھ پر اثر ہے اور جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو بے اختیار اُن کے لئے دل سے دُعا نکلتی ہے۔ ایک دفعہ میں ایک لڑکے کے کندھے پر گہنی ٹیک کر کھڑا تھا کہ ماسٹر قادر بخش صاحب نے جو مولوی عبدالرحیم صاحب درد کے والد تھے اس سے منع کیا اور کہا کہ یہ بہت بُری بات ہے۔