خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء دوسرے طلباء سے مقابلہ کرالیں۔امام صاحب نے سوال کیا اور اُنہوں نے ٹھیک جواب دیا۔امام صاحب کی عادت تھی کہ اگلے روز نوٹوں کو سنتے اور کوئی غلطی ہوتی تو اُس کی اصلاح کر دیتے تھے۔اس دن جو اُنہوں نے گزشتہ نوٹ سُننے شروع کئے تو جب پڑھنے والا غلطی کرتا امام شافعی جھٹ اس کو ٹوک دیتے کہ امام صاحب نے یوں نہیں بلکہ یوں فرمایا تھا۔چنانچہ امام مالک نے اُن کو بغیر قلم دوات کے اپنے درس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی حالانکہ اور کسی کو اس کی اجازت نہ تھی۔یہ بات کیوں تھی؟ اس لئے کہ ماں باپ نے شروع میں ہی ان کو علم کے حصول کی میں لگا دیا تھا مگر ہمارا دنیا نا پن یعنی بچپن اٹھارہ میں سال تک نہیں جاتا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں عمر کے دو ہی حصے سمجھے جاتے ہیں۔ایک وہ جب بچہ سمجھا جاتا ہے اور ایک وہ کی جب وہ بے کار بوڑھا ہوتا ہے اور اس طرح کام کا کوئی وقت آتا ہی نہیں۔ایک دفعہ ایک عورت جس کی عمر کوئی پینسٹھ سال کی ہو گی مجھ سے کوئی بات کر رہی تھی اور بار بار کہتی تھی کہ ساڈے یتیماں تے رحم کرو یعنی ہم قیموں پر رحم کریں۔یہ کوئی پانچ سات سال کی بات ہے اور اس وقت اس کی عمر ۶۵ سال کی ہو گی تو گویا ہمارے ہاں یا تو آدمی بچہ ہوتا ہے اور یا پیر فرتوت جسے پنجابی میں سترا بہترا کہتے ہیں۔یہ بہت حماقت کی بات ہے کہ بچوں کو چھوٹا سمجھ کر انہیں آوارہ ہونے دیا جائے۔اگر بچوں سے صحیح طور پر کام لیا جائے تو وہ کبھی آوارہ ہو ہی نہیں سکتے۔اگر انہیں گلیوں اور بازاروں میں آوارہ پھرنے کی بجائے مجلسوں میں بٹھایا جائے تو بہت کی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔میری تعلیم کچھ بھی نہ تھی لیکن یہ بات تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں جا بیٹھتا تھا ، حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں چلا جاتا تھا ، کھیلا بھی کرتا تھا۔مجھے شکار کا شوق تھا ، فٹ بال بھی کھیل لیتا تھا لیکن گلیوں میں بیکا نہیں پھرتا تھا بلکہ اُس وقت مجلسوں میں بیٹھتا تھا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بڑی بڑی کتابیں پڑھنے والوں سے میرا علم خدا تعالیٰ کے فضل سے زیادہ تھا۔علم گدھوں کی طرح کتابیں لاد لینے سے نہیں آ جاتا۔آوارگی کو دور کرنے سے علم بڑھتا ہے اور ذہن میں تیزی پیدا ہوتی ہے۔پس اسا تذہ، افسران تعلیم اور خدام الاحمدیہ کا یہ فرض ہے کہ بچوں سے آوارگی کو دُور کریں یہ آوارگی کا ہی اثر ہے کہ ادھر ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اُدھر گلی میں بچے گالیاں بک رہے