خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 72

خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۹ء اُس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی لیکن وہ نقشہ جب بھی میرے سامنے آتا ہے اُن کے لئے دل سے دُعا نکلتی ہے۔اسی طرح ایک صو بیدا ر صاحب مُراد آباد کے رہنے والے تھے اُن کی ایک بات بھی مجھے یاد ہے۔ہماری والدہ چونکہ دتی کی ہیں اور دتی بلکہ لکھنو میں بھی ” تم “ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔بزرگوں کو بے شک آپ کہتے ہیں لیکن ہماری والدہ کے کوئی بزرگ چونکہ یہاں تھے نہیں کہ ہم ان سے ”آپ کہہ کر کسی کو مخاطب کرنا بھی سیکھ سکتے۔اس لئے میں دس گیارہ سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم ہی کہا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور ان کے مدارج بلند کرے۔صوبیدار محمد ایوب خان صاحب مُراد آباد کے رہنے والے تھے۔گورداسپور میں مقدمہ تھا اور میں نے بات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تم کہہ دیا۔وہ صوبیدار صاحب مجھے الگ لے گئے اور کہا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ہیں کی اور ہمارے لئے محلِ ادب ہیں لیکن یہ بات یا درکھیں کہ تم“ کا لفظ برابر والوں کے لئے بولا جاتا ہے بزرگوں کے لئے نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اس کا استعمال میں بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔یہ پہلا سبق تھا جو اُنہوں نے اس بارہ میں مجھے دیا۔پس بڑوں کا کی فرض ہے کہ چھوٹوں کو یہ آداب سکھائیں۔اگر ایک ہی شخص کہے تو ان پر اثر نہیں ہوتا۔بچے سمجھتے ہیں یہ ضدی سا آدمی ہے یونہی ایسی باتیں کرتا رہتا ہے۔اگر باپ کہے اور ماں نہ کہے تو سمجھتے ہیں باپ ظالم ہے۔اگر یہ اچھی بات ہوتی تو ماں کیوں نہ کہتی۔اگر ماں باپ کہیں اور اُستاد نہ کہے تو سمجھتے ہیں اگر یہ اچھی بات ہوتی تو اُستاد کیوں نہ کہتا اور اگر اُستاد بھی کہے اور دوسرا کوئی نہ کہے تو سمجھتے ہیں اگر یہ اچھی بات ہوتی تو کوئی دوسرا شخص کیوں نہ کہتا لیکن اگر ماں باپ بھی کہیں ، اُستاد بھی کہیں اور دوسرے لوگ بھی کہتے رہیں تو وہ بات ضرور دل میں راسخ ہو جاتی ہے۔ایک چھوٹا سا ادب خطبہ کو توجہ سے سنتا ہے اور میں کئی بار اس کی طرف توجہ بھی دِلا چکا ہوں کی مگر میں نے دیکھا ہے لوگ برابر باتیں اور اشارے کرتے رہتے ہیں اور اساتذہ یا دوسرے لوگ کوئی اخلاقی دباؤ نہیں ڈالتے کہ جس سے اصلاح ہو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ عادت ہمیشہ ہی چلتی چلی جاتی ہے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا میں خطبہ پڑھ رہا تھا۔ایک شخص کو میں قریباً